Al-Risala · December 2005 · page 531

نہ غالباً اس سے کسی طور پر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۱

مذکورہ عبارت میں "قوم کے اندر حقیقی بیداری" کا نام دیا گیا ہے۔ اقبال نے اپنے خیال کے مطابق احیاءِ ملت کے مقصد کے تحت شاعری کا طریقہ اختیار کیا تھا مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ لوگوں میں صرف ایک غزل خواں بن کر رہ گئے۔ جیسا کہ خود اقبال نے کہا ہے: مرا یارااں غزل خوانی شمر دند۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الشعراء يتبعهم الغاون (الشعراء :۲۲۴) یعنی شعر کے ذریعے اس کے متبعین کا جو گروہ پیدا ہوتا ہے وہ صرف غیر سنجیدہ لوگوں کا گروپ ہوتا ہے۔ سنجیدہ لوگ کبھی شاعر کے گرد اکٹھا نہیں ہوتے۔

سوال

میں جامعہ دار السلام عمر آباد کا ایک طالب علم ہوں، میں آپ کی تحریروں اور مضامین سے زیادہ متاثر ہوں اور میں بھی آپ جیسا ایک مشہور محرّر اور مصنف بننا چاہتا ہوں تو میں اس کے لیے کیا کروں ۔ میں آپ کے پرچہ "الرسالہ" سے بہت متاثر ہوں۔ (شیخ اسماعیل بن شیخ افضل، حیدرآبادی) جواب اپ کو قیمت ادا کیجیے اور پھر آپ اچھے مصنّف بن جائیں گے۔

سوال

بڑی طاقت کے سامنے لڑنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور غیر مسلموں کی تعداد ایک ہزار۔ نعوذ باللہ کیا رسول اللہ نے ذلیل ہونے کے لیے میں یہ تمام اردورڈیئرمیں سُن چکا ہوں، اورروڈبنڈیاؤں کی وڈیؤوں میں بھی قتال کیا تھا۔ (عیاض احمد، دہلی)

جواب

مکہ مکرمہ میں منزّلہ الفقیہ کے سالانہ اجلاس میں ایک عالِم نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد مکی دَور میں مخالفینِ اسلام نے اہلِ ایمان کو ستانا شروع کیا تو عمر فاروق نے کہا: ہم ان کے خلاف جہاد کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا اور فرمایا: یا عمر انا قلیل!

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page