Al-Risala · December 2005 · page 532

نہ غالباً اس سے کسی طور پر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۲

(اے عمر! ہم تھوڑے ہیں) یہ اُس صورتِ حال کا معاملہ ہے جب کہ مسلمان قلیل ہوں اور ان کے حریف کثیر تعداد میں ہوں۔ ایسی غیر مناسب حالت میں اپنے حریفوں سے جہاد کے نام پر جنگ چھیڑنا، بلاشبہ رسول اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔

جہاں تک غزوۂ بدر کا معاملہ ہے تو اس کی صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت اگرچہ اہل ایمان کی تعداد تین سو تیرہ تھی مگر جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے پے در پے اپنی طرف سے فرشتے بھیجے۔ حتیٰ کہ ان فرشتوں کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر مخالفین کی تعداد ایک ہزار تھی اور اہل ایمان کی تعداد تین سو تیرہ۔ اب فرشتوں کو شامل کر کے اہل ایمان کی صف میں پانچ ہزار تین سو تیرہ کی فوج ہوگئی۔ اس طرح مسلمان عددی اعتبار سے مخالفین سے بہت بڑھ گئے، نیز طاقت کے اعتبار سے بھی۔ کیوں کہ فرشتوں کی طاقت انسان کے مقابلے میں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک ہی فرشتہ پوری فوج کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔

سوال

جماعت اسلامی کا سہ روزہ اخبار ’’دعوت‘‘، دہلی سے نکلتا ہے۔ اس کا ایشو ۱۹ اپریل ۲۰۰۵ سامنے آیا۔ یہ ایشو جہاد کے سبجیکٹ پر ’’اسپیشل اُشُو‘‘ کے طور پر چھپا ہے۔ اس اشو میں ایک صاحب کا آرٹیکل، اس ہیڈنگ کے ساتھ ہے: ’’جہاد، اسلام کی اخلاقی حدود کا پابند ہے۔ ‘‘ اس آرٹیکل میں ایک سوال کے جواب میں وہ لکھتے ہیں: ’’جو قومیں اسلام سے ناواقف ہیں، ان کے درمیان اسلام کے تعارف کی سعی بہت کم ہوئی ہے اور جو ہوئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ اس سطح کی نہیں ہے جس سطح کی ہونی چاہیے اور اُن زبانوں میں نہیں ہے جو اُن کی زبانیں ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ہم نے موجودہ دور کے فکر اور فلسفے کو غلط اور اسلام کو حق ثابت کر دیا ہے، اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے، وہ ضد اور ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۷۲)

میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہوں۔ میری ایجوکیشن امریکا اور لندن میں ہوئی ہے۔ میری زبان انگریزی ہے۔ میں نے آپ کی سب انگلش کتابیں کئی بار پڑھی ہیں، اور میں نے اپنے مسلم شوہر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues

Printed page