نہ غالباً اس سے کسی طور پر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۳
سے آپ کی اردو کتابیں پڑھوا کر سنی ہیں۔ پانچ سال پہلے میں اسلام سے ہیٹ کرتی تھی۔ مگر آپ کی کتابوں کی اسٹڈی کے بعد میں نے اسلام میں سچائی کو ڈسکور کیا ہے، اور اس کو پورے کنوکشن کے ساتھ مانا ہے۔ میرے جیسے میرے کئی نان مسلم ساتھی جو ہائی ایجوکیشن لیے ہوئے ہیں، انھوں نے آپ کی کتابوں کو پڑھ کر اسلام میں ڈوئن ڈرٹھڈ کو ڈسکور کیا ہے۔ حالاں کہ پہلے وہ بھی میری طرح اسلام سے ہیٹ کرتے تھے۔ میں نے اور میرے نان مسلم ساتھیوں نے ماڈرن اسٹینڈرڈ کی کی ایجوکیشن لی ہے۔ اپنے جاب کے اعتبار سے ہم انھیں لوگوں کے بیچ میں رہتے ہیں، جن کو ہائی ایجوکیٹیڈ لوگ کہا جاتا ہے۔ میں اور میرے نان مسلم ساتھی پورے کنوکشن کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا لٹریچر اُس لیول کا ہے جو آج کا لیول سمجھا جاتا ہے۔
میں نے اور میرے نان مسلم ساتھیوں نے آپ کا انگریزی لٹریچر بہت سے ہائی ایجوکیٹیڈ لوگوں کو دیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ لٹریچر آج کے ماڈرن لیول کے مطابق نہیں۔ میرے اور میرے دوسرے تمام ساتھیوں کے نزدیک، آج کا کوئی ایسا اِنٹلکچول لیول نہیں جس پر آپ کا لٹریچر پورا نہ اُترتا ہو۔ ہو سکے تو آپ اس معاملے کے بارے میں لکھیں (پر یاملک، نئی دہلی) جواب ”جہاد نمبر“ میں جماعت اسلامی کے ایک بزرگ کا جو مضمون چھپا ہے، اس کو میں نے دیکھا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال خود صاحب مضمون سے ہونا چاہیے۔ صاحب مضمون کا مذکورہ تبصرہ ایک تقابلی تبصرہ ہے۔ انھوں نے وقت کی ایک علمی سطح کو مان کر اس سے مطبوعہ اسلامی لٹریچر کا تقابل کیا ہے۔ ایسی حالت میں ان کو یہ بتانا چاہیے کہ وقت کی علمی سطح کا تصور ان کے ذہن میں کیا ہے۔ اس کے بغیر مذکورہ قسم کا تقابل ممکن نہیں۔
ان کا یہ مضمون گویا اس بات کا دعویٰ ہے کہ وہ وقت کی علمی سطح کو جانتے ہیں۔ اگر یہ سطح ان کے علم میں نہ ہو تو وہ تقابل کرنے کے اہل ہی نہیں ہو سکتے۔ ایسی حالت میں ”جہاد نمبر“ کے مضمون نگار کو سب سے پہلے یہ بتانا چاہیے کہ وقت کی وہ علمی سطح کیا ہے، تا کہ اس کی روشنی میں مطبوعہ اسلامی لٹریچر کو جانچا جا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues