نہ غالباً اس سے کسی طور پر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۴
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مضمون نگار کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ وقت کی علمی سطح کو بتائیں اور ساتھ ہی کم از کم کوئی ایک ایسی کتاب کا نام بتائیں جوان کے نزدیک وقت کی علمی سطح کو بتا رہی ہو یا اس کے مطابق ہو۔ اگر وہ ایسی کسی کتاب کا نام نہ بتا سکیں تو ان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ یہ کہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وقت کی علمی سطح کیا ہے۔ اس لیے میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس سے تقابل کر کے بتاؤں کی مطبوعہ اسلامی لٹریچر اس کے مطابق ہے یا نہیں ۔ مضمون نگار کے لیے ان دو کے علاوہ کوئی تیسری صورت جائز نہیں۔
سوال
اللہ تعالیٰ سورہ ق میں فرماتا ہے کہ ہم نے زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا فرمایا (۳۸) جب کہ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرتِ عظیم بھی حاصل ہے کہ ” اذا اراد شیئا ان یقول له كن فيكون “۔ تو اس چھ دنوں میں پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے۔ (وسیم بھٹ، کشمیر) جواب ۶ دنوں سے مُراد چھ دور (periods) ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ”کن فیکون“ کی آیت میں خدا کی قدرت کا بیان ہے، اور ”ستة ایّام“ کی آیت میں خدا کے طریقے (Method) کا بیان ہے۔ خدا کو بلاشبہ یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ ایک لمحے میں پوری کائنات کو پیدا کر دے۔ مگر اپنی حکمت کے تحت خدا نے یہ کیا کہ کائنات کو وجود میں لانے کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ تدریج کی اس حکمت کا ایک پہلو غالباً یہ ہے کہ انسان اپنے عمل میں بھی تدریج کے اس نمونے کو اختیار کرے ۔ وہ اچانک چھلانگ لگا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ وہ ترتیب اور تدریج کے اصول پر منصوبہ بند انداز میں کام کر کے اپنا مقصد حاصل کرے۔ فطرت کا جو اصول ہے اسی کو انسان اپنی زندگی کی تعمیر میں بھی اختیار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues