خبر نامه اسلامی مرکز ۱۳۷۱
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۶
برمنگھم کا ادارہ اسلامک ویژن (Islamic Vision) ایک دعوتی ادارہ ہے۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات کی توسیع واشاعت میں اس کا تعاون مسلسل جاری رہا ہے۔ حال میں انھوں نے انگریزی کتاب اسلام ایز اٹ از (Islam As It Is) کو بڑی تعداد میں شائع کرکے یورپ میں لوگوں کے درمیان مفت تقسیم کیا ہے۔ یہ کتاب پہلی بار دہلی سے ۱۹۹۲ میں چھپی۔ اس کتاب کا مذکورہ ایڈیشن اسلامک ویژن نے ۲۰۰۵ میں چھپوایا ہے۔ یہ 114 صفحات پر مشتمل ہے۔ عمومی حلقے میں اسلام کے تعارف کے لیے یہ کتاب بہت مفید ثابت ہوئی۔ ۸۔ ۲ اگست ۲۰۰۵ کو ناروے کے مسٹر آرنے سوراس (Arne Saeveraas) کی قیادت میں ایک ڈیلی گیشن اسلامی مرکز میں آیا۔ یہ لوگ ناروے کے ناروین چرچ ایڈ (Norwegian Church Aid) کے نمائندے تھے۔ یہ ادارہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر دونوں ملکوں کے مذہبی افراد کے درمیان ڈائیلاگ کے ذریعے وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مشن کے تحت وہ صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ مسٹر آرنے سوراس کے ساتھ چندوال پال مارٹن (Chandual Paul Martin) بھی تھے جو کہ مدارس کے لتهران چرچ (Luthran Churchi) کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی انگریزی کتابیں دی گئیں۔ انھوں نے پیس مشن کے سلسلے میں صدر اسلامی مرکز کی باتو کو بہت پسند کیا۔ اور ان کو نہایت مفید بتایا۔ ۹۔ انگریزی میگزین آؤٹ لک (نئی دہلی) کی بیورو چیف صبا نقوی اور انگریزی روزنامہ ٹیلیگراف کے اسپیشل کرسپاڈینٹ پورنما جوشی نے ۱۲ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا مشترکہ انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع جہاد اور خود کش بمباری تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں خود کشی یا خود کش بمباری دونوں یکساں طور پر حرام ہیں۔ جہاد کے نام پر آج کل مسلمانوں کے اندر جو متشددانہ کارروائیاں جاری ہیں وہ بھی اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔ کیوں کہ اسلام میں جنگ صرف ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود مسلح جہاد شروع کردیں۔ نیز حکومت کے لیے بھی صرف جارحانہ حملے کی صورت میں دفاعی جنگ جائز ہے۔ اسی طرح پراکسی وار بھی اسلام میں جائز نہیں۔ ان خواتین کو امن اور اسلام کے موضوع پر چار انگریزی کتابیں دی گئی اور کچھ مضامین دیے گیے۔
۱۰۔ ایشین نیوز اینڈ انفارمیشن نیٹ ورک (نئی دہلی) کے ڈائرکٹر راجن تیواری نے ۸ اگست ۲۰۰۵ کو دوردشن کے لیے تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کشمیر اور دوسرے مقامات پر جہاد کے نام سے ہونے والے تشدد سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ متشددانہ جہاد مسلمانوں کا ایک فعل ہے۔ اس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جہاد صرف پر امن جدوجہد کا نام ہے۔ جہاں تک جنگ یا قتال کا تعلق ہے وہ صرف دفاع کے لیے جائز ہے۔ اور یہ دفاعی جنگ بھی ایک باقاعدہ حکومت کر سکتی ہے۔ اس دفاعی جنگ کی بھی بہت سی شرطیں ہیں۔ مثلاً غیر مقاتلین (non-combatants) اور بچوں اور عورتوں کو نہ مارنا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues