Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۷
۱۱۔ امریکا میں ایک ادارہ ہے جس کا نام: یوتھ فار ہیومن رائٹس انٹرنیشنل (Youth for Human Rights International) ہے۔ اس کا صدر دفتر لاس اینجلس میں ہے۔ اس ادارے کے تحت پہلی انٹرنیشنل یوتھ سمٹ امریکا میں ہوئی۔ اس کے تحت دوسری انٹرنیشنل سمٹ ۲ اگست ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں سائی انٹرنیشنل سینٹر کے آڈیٹوریم میں ہوئی ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے واٹ آر ہیومن رائٹس نامی کتاب (مطبوعہ امریکا) کا اجرا کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے حضرت علی کا یہ قول لوگوں کو سنایا: The value of a person lies in excellence۔ انھوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ اس کے مطابق کامیابی کا بہترین اصول یہ ہے کہ آپ بہتر کریں تو دوسروں سے بھی آپ کو بہتر ملے گا:Do your best, and find the best حاضری نے دل چسپی کے ساتھ اس کو نقل کیا۔
۱۲۔ ٹی وی کمپنی افسانہ بی لون (Afsana Babylon) کے ڈائریکٹر مَر اعلیٰ ۱۰ اگست ۲۰۰۵ کو اپنی ٹیم کے ساتھ اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے اپنی مجوزہ فلم’’رحمت‘‘ کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر تشدد اور امن کے مسئلے سے تھا۔ جوابات میں بتایا گیا کہ امن انسانی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ تشدد کے حالات میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ مستر مر اعلیٰ کو موضوع سے متعلق کچھ کتابیں دی گئیں۔
۱۳۔ انٹرنیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی طرف سے نئی دہلی کے اسکوپ کنونشن سینٹر (scope convention centre) میں ۶ اگست ۲۰۰۵ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ ڈاکٹر کرن سنگھ اس کے صدر تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلام مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ اور’’ اسلام اینڈ پیس‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں ایک تقریر کی۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو ایک نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام یہ تھا:
Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005
۱۴۔ دہلی کے انگریزی میگزین ڈی این اے (Daily News and Analysis) کے نمائندہ مس گیتا سنگھ (5560444 .Tel) نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۱۷ اگست ۲۰۰۵ کوریکاڈ کیا گیا۔ خاص سوال یہ تھا کہ ایک دار الافتاء نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسلم عورتیں الکشن میں ووٹ دینے کے لیے نہ جائیں۔ اور اگر جاتی ہیں تو برقع پہن کر جائیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کا فتویٰ موجودہ حالات میں بالکل بے فائدہ ہے۔ سیاسی معاملات میں مسلم ملکوں میں بھی فتویٰ نہیں چلتا پھر وہ انڈیا میں کیسے چلے گا۔ ایسے معاملات میں مفتی صاحبان کو حالات کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا احساس کرتے ہوئے خاموشی رہنا چاہیے۔ اسلام کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جن معاملات میں آدمی موثر نہ بن سکتا ہو اس میں وہ خاموش رہے اور دعا پر اکتفا کرے۔ ۱۵۔ ہندی ڈیلی راشٹریہ سہارا کے نمائندہ نے ۱۹ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو دینک
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues