Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۸
جاگرن میں چھپی ہوئی ۱۶/ اگست ۲۰۰۵ء کی اس خبر پر تھا جس کا عنوان یہ تھا: دیش ہت میں الپ سنکھیوکوں کی سوچ ختم کریں (سپریم کورٹ)۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستور ہند سے اقلیتوں کی فہرست ختم کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دستور میں تبدیلی کا معاملہ ہے اور موجودہ حالت میں پارلیمنٹ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ دستور میں کوئی تبدیلی کر سکے۔ دوسری بات یہ کہ دستور ہند میں تبدیلی کا موجودہ رجحان خود صحیح نہیں۔ آزادی کے بعد سے بار بار دستور میں ترمیم کی گئی ہے اور نئے نئے قانون بنائے گئے ہیں اس طرح کی باتوں سے دستوری اور قانونی استحکام ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقی ترقی مسلسل جدوجہد (sustainable effort) چاہتی ہے۔ اور آۓ دن کی ترامیم کے ماحول میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ۱۲۔ ہندی ویکلی سہارا سے (نئی دہلی) کی نمائندہ رامشکا لانے ۱۶ اگست ۲۰۰۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں الگاوَ داد کا مزاج ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ اس کو ختم ہونا چاہیے۔ دوسری چیز تعلیم ہے۔ مسلمانوں کا ہر مسئلہ تعلیم سے جڑا ہوا ہے۔ تعلیم بڑھ جائے تو تمام مسئلے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ الیکشن میں ہندو اور مسلمان دونوں کی یہ سوچ ہوگئی ہے کہ یہ دوست پارٹی ہے اور یہ دشمن پارٹی ہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ اس کے بجائے مثبت ذہن سے پارٹیوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ ۱۷۔ انٹرنیشنل لجس اینڈ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پیس (IIFWP) کے تحت ۱۶/ اگست ۲۰۰۵ء کو ایک سیمینار ہوا۔ یہ سیمینار نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع کی مناسبت سے’’ اسلام اینڈ پیس‘‘ کے بارے میں مختصر اظہار خیال کیا۔ آخر میں انھیں دعا (prayer) کے لیے کہا گیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کی: اللهم انالسلام ومنك السلام وإليك يرجع السلام، حينا ربنا بالسلام وأدخلنا دارك دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت، يا ذالجلال والا کرام۔ پھرا س دعا کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ حاضرین نے اس دعا کو بہت پسند کیا۔ ۱۸۔ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ ویر ارجن کے نمائندہ مسٹر و کرم سنگھ نے ۲۲ اگست ۲۰۰۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر سپریم کورٹ کے اس نوٹس سے تھا جو دار الافتاء اور دار القضاء کے متعلق جاری کیا گیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کا نوٹس جزئی طور پر درست ہو سکتا ہے مگر اس نوٹس کا تعلق دار القضاء یا دار الافتاء کے وجود سے نہیں ہے بلکہ مفتی صاحبان کے ایک غلط فتوے سے ہے جو عمرانہ کیس (مظفر نگر) کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کیس میں مفتی صاحبان نے بالواسطہ انداز میں جو فتوٰی دیا وہ کورٹ میں مداخلت کے ہم معنی تھا۔ کیوں کہ عمرانہ کا کیس ثابت شدہ طور پر زنا بالجبر کا کیس تھا۔ اس لیے وہ ایک فوجداری کیس تھا جو عدالت کے دائرے میں آتا ہے۔ اب یہ ہونا چاہیے کہ مفتی صاحبان اور ان کے ہم نوا اعلان کے ساتھ یہ مان لیں کہ انھوں نے غلطی کی۔ عمرانہ کے معاملے میں ان کو خاموش رہنا چاہیے تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مفتی صاحبان اور ان کے ہم نوا اعلان کے ساتھ اپنی غلطی مان لیں تو اس کے بعد سپریم کورٹ کا اعتراض اپنے آپ ختم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues