Mahatma Gandhi National Award For Tolerance-2005
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳۹
ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مفتی صاحبان کو اور زیادہ تربیت یافتہ ہونا چاہیے۔ ۱۹۔ پاکستان سے ایک خط ملا ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ آپ کا اور میرا باہمی تعلق ہو جائے۔ آپ جیسی شخصیت سے جس کا تعلق قائم ہو جائے وہ انسان کتنا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرے گا۔ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ۲۰۰۱ء میں جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا تو میں بڑا احساس کمتری کا شکار تھا۔ میرے ٹیچر نے مجھے ایک کتاب دی جس کا نام تھا’’ راز حیات‘‘ بس میری زندگی کی شروعات ایک اچھے اور نئے طریقے سے ہونا شروع ہوگئی۔ یہ کتاب پڑھنے سے پہلے بھی میرے اندر یہ جذبہ تھا کہ زندگی آپ سے کیا مانگتی ہے۔ وہ کس چیز کا سوال آپ سے کر رہی ہے۔ پھر میں نے’’ کتاب زندگی‘‘ خریدی۔ ان دونوں کتابوں میں ایسی تحریریں شائع ہوئی ہیں جنھوں نے دل کو موہ لیا۔ پھر مجھے آپ سے ملنے کا شوق ہوا اتنی بڑی شخصیت سے کیسے ملا جائے، جب میں نے پتہ کیا تو افسوس کرتا رہا کہ آپ کی رہائش انڈیا میں ہے (سید کامران، کراچی) ۲۰۔ جدہ کے انگریزی اخبار عرب نیوز کے ایڈیٹر مسٹر سراج وہاب نے ۲۸ اگست ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو دو قسطوں میں تھا اور تفصیلی تھا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم سیاست اور مسلم جہاد اور مسلمانوں کی عالمی صورت حال کے بارے میں تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کسی دوسری قوم کے ظلم اور سازش کا شکار نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وہ خود اپنے نااہل رہنماؤں کی غلط رہنمائی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس غلط رہنمائی میں سرفہرست اسلام کا پولیٹیکل انترپریٹیشن ہے۔ اس غلط انتر پریٹیشن نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ بے فائدہ لڑائی میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ ۲۱۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ۲۴ اگست ۲۰۰۵ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مختلف کیندر یہ اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی صدارت جنرل چہر نے کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں شریک ہوئے۔ وہاں انھوں نے ۲۵ منٹ کا خطاب کیا۔ اس خطاب کا موضوع تھا: ’’بنیادی انسانی اقدار اور اسلام‘‘۔ پروگرام کے مطابق ۳۰ منٹ کی تقرری تھی۔ اور اس کے بعد ۱۵ منٹ سوال و جواب ہوا۔ تقریر میں اس قرآنی آیت کی تشریح کی گئی: وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمة (البلد)
۲۲۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کا چار ستمبر ۲۰۰۵ کا اجلاس جامعہ ملیہ (نئی دہلی) کے حال میں ہوا۔ اس کے آرگنائزر ڈاکٹر ظفر محمود ہیں۔ اس اجلاس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور زکوٰۃ کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ زکوٰۃ سوشل سیکیورٹی کا ایک نظام ہے۔ اصلا وہ عبادت ہے۔ لیکن دوسرے عبادتی اعمال کی طرح اس میں بھی دنیوی زندگی کے مفاد کو شامل کر دیا گیا ہے۔
۲۳۔ پاکستان سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: آپ کی کتاب ’’راز حیات‘‘ پڑھنے کے بعد میری اس کتاب کے بارے میں یہ رائے ہے کہ اس کتاب کی ضرورت آج کے دور کے ہر انسان کو
‹ Previous page Next page › Contents of December 2005 All issues