Al-Risala · January 2005 · page

اسپین کا سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

اس شعر میں مجھے سیاسی توسیع کی بو آتی ہے۔ اس لیے وہ مجھے پسند نہیں۔ اس کے مقابلہ میں میرا ذوق یہ ہے کہ میں ہر ترقی کو اپنی ترقی سمجھتا ہوں، کیوں کہ وہ انسان کی ترقی ہے جس کا میں بھی ایک حصہ ہوں۔ اسی انسانی ذہن کو میں داعیانہ ذہن سمجھتا ہوں۔ داعی تمام انسانوں کو ایک فیملی کے روپ میں دیکھتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: الخلق عیال الله۔ اس سے عمومی خیر خواہی کا وہ ذہن بنتا ہے جس کو قرآن میں نصح کہا گیا ہے۔ دعوت کا عمل دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی کا عمل ہے، نہ کہ دوسرے انسانوں کے اوپر اپنی برتری قائم کرنے کا عمل۔

میڈ رڈ ملک کے تقریباً وسط میں واقع ہے۔ وہ اسپین کی راجدھانی ہے۔ ۱۰۸۳ تک میڈ رڈ میں مسلمانوں کی سلطنت تھی۔ اس سال الفانسوششم (Alfonso VI) نے اس کو مسلمانوں سے چھین کر اپنی سلطنت میں داخل کیا۔ ۱۳۲۹ میں یہاں پارلیمنٹ قائم ہوئی اور اس کو باقاعدہ طور پر اسپین کی راجدھانی کی حیثیت ملی۔ ۱۵۶۱ میں فلپ دوم نے یہاں اپنا قلعہ بنایا۔ میڈ رڈ کے بارے میں ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میڈ رڈ ایک ایسا شہر ہے جہاں رنگ کے مقابلہ میں روشنی اور خوبصورتی کے مقابلہ میں مہربانی زیادہ اہمیت رکھتی ہے:

Madrid is a city in which light is more important than colour, grace more than beauty. کہا جاتا ہے کہ میڈ رڈ کے لوگ ایک قسم کے رومانی خیالات میں جیتے ہیں۔ اس کے بارے میں ایک فرانسیسی مشاہد نے لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ میڈ رڈ عظمتوں اور مسرتوں کا مرکز ہے: They believe Madrid to be the very centre of all glory and happiness. مذکورہ فرانسیسی مشاہد نے مزید لکھا ہے کہ میڈ رڈ والوں کے نزدیک جنت کا راستہ میڈ رڈ سے جاتا ہے اور جنت میں ایک کھڑکی ہے جس سے میڈ رڈ کو دیکھا جاسکے:

...... From Madrid to Heaven, and in Heaven a little window from which to look at Madrid.

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page