Al-Risala · February 2005 · page 18

اطمینان بخش توجیہہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸

کے طور پر بنایا گیا اور اگلی دنیا کو اپنا انجام پانے کی جگہ کے طور پر تخلیق کیا گیا۔ انسان کو پیدائشی طور پر ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت عطا ہوئی ہے۔ تاہم انسان کی زندگی گویا آئس برگ کی مانند ہے، جس کا بہت چھوٹا حصہ اوپر دکھائی دیتا ہے اور اس کا پورا بقیہ وجود سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مدت عمر (life span) دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا گیا ہے اور اس کی مدت حیات کا زیادہ بڑا حصہ عالم آخرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے تا کہ انسان اپنی شخصیت کو مکمل کرے۔ مثال کے طور پر موجودہ دنیا طرح طرح کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان ان تجربات سے گزرتے ہوئے یہ ثبوت دے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت احساسات کے ساتھ جی سکتا ہے۔ ایسے ہی مثبت شخصیات کے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کئے جائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ رد عمل کا شکار ہو گئے اور منفی تجربات کے درمیان خود بھی منفی بن گئے، ایسی منفی شخصیت رکھنے والے لوگوں کو جنت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ وہ جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکیں گے۔

عضویاتی ارتقاء کے نظریہ کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک فیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ عضویاتی ارتقاء کے نظریہ کے حق میں مشاہداتی دلائل حاصل ہو گئے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نظریہ ارتقاء کو ماننے کی صورت میں حیاتیاتی شواہد کی ایک قابل فہم تو جیہہ حاصل ہو جاتی ہے۔ جب کہ علماء سائنس کے نزدیک، دوسرا کوئی ایسا نظریہ موجود نہیں جو معلوم حیاتیاتی شواہد کی تو جیہہ کرتا ہو۔ گویا نظریہ ارتقاء ایک قابل عمل نظریہ (workable theory) ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی ثابت شدہ نظریہ (proved theory)۔

اطمینان بخش توجیہہ

اس سائنسی اصول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں تمام معلوم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page