اطمینان بخش توجیہہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۱۹
شواہد کی تشفی بخش توجیہہ مل جاتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں سب کچھ ناقابل توجیہہ بنا رہتا ہے۔
عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا ادھوری معلوم ہوتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا مکمل نظر آنے لگتی ہے۔ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات ناقابل فہم بنی رہتی ہے کہ بہت سے سچے اور اچھے انسان دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ انہیں اپنی سچائی کا کوئی انعام نہیں ملا۔ مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال پوری طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں موجودہ دنیا کا یہ واقعہ ناقابل توجیہہ بنا رہتا ہے کہ یہاں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ برائی اور سرکشی کرتے ہیں مگر یہاں وہ اپنی برائی کی سزا نہیں پاتے۔ مگر عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں، ہم کو اس سوال کا اطمینان بخش جواب مل جاتا ہے۔ اسی طرح عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں یہ بات مکمل طور پر ناقابل فہم رہتی ہے کہ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہاں ایک آئیڈیل ورلڈ کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے، مگر ہر شخص اس آئیڈیل ورلڈ کو پائے بغیر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں یہ اشکال مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب انسان اس یقین کے ساتھ موجودہ دنیا میں رہ سکتا ہے کہ جس مطلوب چیز کو وہ قبل از موت دنیا میں نہ پا سکا وہ اس کو بعد از موت دنیا میں پالے گا۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز عبث پیدا نہیں کی گئی۔ سورج چاند کا نظام ہو یا زمین کے کیڑے مکوڑے سب ایک مقصد کے تحت پیدا کئے گئے ہیں اور وہ اپنے اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں۔ اس حالت میں اس دنیا میں صرف ایک ہی چیز ایسی ہے جو بظاہر بلا مقصد معلوم ہوتی ہے۔ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر حسین تمناؤں کا ایک تصور بسا ہوا ہے، کوئی بھی عورت یا مرد اس سے خالی نہیں۔ پھر جب اس دنیا کی دوسری تمام چیزیں واضح مقصد کے تحت پیدا کی گئی ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بھی اپنی ایک حقیقی منزل رکھتی ہوں۔ جس کائنات میں ہر چیز با مقصد ہو وہاں انسان کی خواہشیں اور تمنائیں بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues