جنت کی حقیقت
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۰
یقینی طور پر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد ہے۔ البتہ یہ مقصد موجودہ دنیا میں پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامحدود ہیں اور وہ ایک لامحدود دنیا ہی میں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسی لامحدود دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت کی اس لامحدود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی جو ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں ان کو آخرت کی دنیا میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طور پر بھگتے رہیں۔
جنت کی حقیقت
جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ ایک انوکھے استثناء کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات میں ہر طرف یقین (certainty) ہے اور انسان کی دنیا میں غیر یقینیت (uncertainty)۔ بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشہ سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے اور انسان کی زندگی میں بے تسکینی (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہئے، وہ سب اس کو مل رہا ہے مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے جو اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہاوہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات ایک برائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔ مگر انسان استثنائی طور پر اس مسئلہ سے دوچار ہے جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔
جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues