Al-Risala · February 2005 · page 21

فطرت کا حصہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۱

طرح موجود ہے جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کے معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں ۔ یہ صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔

فطرت کا حصہ

خدا اور آخرت کا معاملہ بظاہر غیر مشہور دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کی فطرت خدا اور آخرت کے معاملہ کو ایک معلوم صداقت کے طور پر جان لیتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ خدا کی معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا فطری۔ خدا اور آخرت کے وجود کو عقلی سطح پر ماننا اس معرفت کا صرف ابتدائی درجہ ہے جب کہ خدا اور آخرت کے وجود پر فطری سطح پر یقین کرنا اس کا انتہائی درجہ۔ خدا اور آخرت کے معاملہ میں عقلی دلائل کے استعمال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر سے شک کے پردے کو ہٹا دیا جائے ۔ انسان کو اس مقام تک لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے معاملہ کو کم از کم امکانی صداقت کے طور پر قبول کر لے۔ خدا اور آخرت کے معاملہ میں دلیل اور منطق کے استعمال کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو اس فکری سطح پر لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے وجود کو بطور ایک نظریہ ماننے کے لیے تیار ہو جائے ۔ جب آدمی اس حالت تک پہنچ جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس نظریہ کو لینے کے لیے اس کی فطرت کے دروازے کھل جائیں ۔ وہ اس کو ایک فطری سچائی کے طور پر پہچان کر اپنا لے۔ ہر انسان کے پاس وہ آنکھ موجود ہے جو خدا اور آخرت کو دیکھ سکے مگر اس آنکھ کے اوپر کنڈیشننگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ منطقی دلیل یہ کام کرتی ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ یا اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کو توڑ کر اس مصنوعی پردہ کو فطرت کی آنکھ سے ہٹا دے۔ اس کے بعد انسان خدا اور آخرت کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔ اب انسان بظاہر نہ دکھائی دینے والے خدا کے وجود پر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page