Al-Risala · February 2005 · page 29

ایک غلطی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۹

ایک غلطی

ایک انگریزی میگزین میں ایک لطیفہ نظر سے گزرا۔ پال نام کا ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ چڑیا گھر دیکھنے کے لیے گیا۔ وہاں اس نے مختلف قسم کے جانور دیکھے۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لیے ایک جانور خرید دیجئے ۔ باپ نے کہا کہ اس کا کھانا ہم کہاں سے لائیں گے۔ بچے نے جواب دیا کہ ان جانوروں میں سے ایک خرید دیجئے جن کے پنجرہ پر لکھا ہوا تھا کہ کھلا نا نہیں ہے : Paul went to the zoo with his father, "Buy an animal for me," he begged, "where would we get his food? asked the father. The boy replied, "Buy one of those where it says on the cage: 'No feeding.'"

بچے کی غلطی کیا تھی ۔ اس کی غلطی یہ تھی کہ پنجرہ کے بورڈ پر جو بات زائرین کی نسبت سے لکھی ہوئی تھی ، اس نے اس کو خود جانوروں کی نسبت سے سمجھ لیا۔ اس واقعہ میں ایک نادان بچہ کا کلمہ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ بہت سے بڑے لوگ بھی اسی نادانی میں مبتلا رہتے ہیں۔

زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ آپ معاملات میں صحیح فیصلہ کریں اور غلط فیصلہ سے بچیں۔ اس کا تعلق صحیح زاویہ نظر سے ہے۔ اگر آپ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھیں تو آپ صحیح فیصلہ تک پہنچیں گے اور اگر آپ چیزوں کو غلط رخ سے دیکھیں تو آپ کا فیصلہ غلط ہو جائے گا ۔ اور جب فیصلہ غلط ہو تو اقدام بھی ہمیشہ غلط ہو جاتا ہے۔

اس کی کیا تدبیر ہے کہ آدمی چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھے اور غلط رخ سے چیزوں کو نہ دیکھے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر بے لاگ سوچ پیدا کرے ۔ وہ جذبات کے زیر اثر نہ سوچے ۔ وہ متعصبانہ ذہن کے تحت اپنی رائے نہ بنائے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ چیزوں کو بے آمیز ذہن کے تحت دیکھنے لگے۔ وہ چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھنے کے بعد ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرے ۔ ایسے ہی لوگ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھیں گے اور وہ صحیح فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page