ترقی کا سیلاب
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۰
ترقی کا سیلاب
۱۰ اکتوبر ۲۰۰۴ کو پاکستان کے ایک مسلم دانشور سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم نے پاکستان کے مسلمانوں کو خوشحال بنا دیا۔ مگر انڈیا کے مسلمان غریبی میں مبتلا ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک غلط بات ہے۔ مزید یہ کہ وہ ایک خلاف زمانہ بات (anachronic statement) ہے۔ موجودہ زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
میں نے کہا کہ آپ ایسا کیجئے کہ آپ دہلی کے مختلف علاقوں میں ایک سو مسلم خاندانوں کا سروے کیجئے۔ ان سے آپ یہ پوچھئے کہ ۱۹۴۷ میں ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ اسی طرح آپ لاہور کے مختلف علاقوں سے ایک سو مسلم خاندانوں کو لیجئے اور ان سے آپ یہی سوال کیجئے کہ ۱۹۴۷ میں ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ اگر آپ اس قسم کا سروے کریں تو آپ پائیں گے کہ دونوں جگہوں کے مسلمانوں نے تقریباً یکساں طور پر معاشی ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن مسلم رہنماؤں نے معاشی ترقی کو منقسم ہندوستان اور غیر منقسم ہندوستان کا ظاہرہ سمجھا وہ ایک مہلک غلطی کا شکار ہوئے۔ اس غلطی کا سبب یہ تھا کہ وہ زمانی تبدیلی سے بے خبر تھے۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا۔ یہ مبنی بر زمین اقتصادیات (land-based economy) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں پیسہ صرف لینڈ لارڈ کے پاس ہوتا تھا۔ بقیہ لوگ مجبور تھے کہ وہ غریبی کی حالت میں زندگی گزاریں۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد بقیہ دنیا کی طرح سارے برصغیر ہند میں صنعتی انقلاب شروع ہوگیا۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہر جگہ اقتصادی انججار (economic explosion) آگیا۔ اب یہ ناممکن ہوگیا کہ پیسہ صرف ایک طبقہ کے پاس ہو اور دوسرے طبقات اس سے محروم رہیں۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے سوکھے کا زمانہ ہو تو پانی صرف اس شخص کے پاس ہوگا جس کے پاس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues