Al-Risala · February 2005 · page 31

ترقی کا سیلاب

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۱

کنواں ہو لیکن جب موسلا دھار بارش ہو جائے تو ہر جگہ پانی پھیل جائے گا۔ اب ہر آدمی اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ پانی حاصل کر سکے۔ یہی معاملہ قدیم زرعی دور اور جدید صنعتی دور کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی شخص یا گروہ کسی کو ترقی کرنے سے روک دے۔ آج ہر طرف معاشی مواقع کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ آج کوئی شخص یا گروہ اپنی بے عملی سے اپنے آپ کو محروم بنا سکتا ہے لیکن جو لوگ عمل کرنے پر تیار ہوں ان کی معاشی ترقی میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہی غلط فہمی ایک اور معاملہ میں شدید تر صورت میں پیش آئی ہے۔ وہ یہ کہ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک تمام مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کو با عزت زندگی گزارنے کے لیے سیاسی اقتدار ضروری ہے۔ جہاں سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو وہاں مسلمان با عزت طور پر زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ سوچ بھی ایک خلاف زمانہ بات (anachronic statement) کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ایسی دور رس تبدیلیاں پیش آئی ہیں جنہوں نے با عزت زندگی کے لیے سیاسی اقتدار کو غیر ضروری بنا دیا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ کوئی گروہ سیاسی اقتدار کے بغیر عزت اور سر بلندی کی زندگی حاصل کر سکے۔

یہ امکان اُس جدید ظاہر ہ کے ذریعہ ممکن ہوا ہے جس کو ادارہ (institution) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دور جدید میں اداروں نے متوازی ایمپائر کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مثال کے طور پر انڈیا میں مسیحی فرقہ نے ایک چھوٹی اقلیت ہونے کے باوجود ملک میں اپنا ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا ہے۔ اسی طرح پارسی فرقہ نے ملک میں اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنا لیا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں یہودی اقلیت نے اپنا اقتصادی ایمپائر بنا لیا ہے، وغیرہ۔

مسلمانوں کے لیے ہر ملک میں یہ ممکن تھا کہ وہ دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے اعلیٰ ادارے بنائیں اور سیاسی اقتدار کے بغیر اپنا ایک متوازی ایمپائر قائم کر سکیں۔ خاص طور پر دعوہ ایمپائر کا میدان تو وہ میدان ہے جہاں مسلمانوں کو اجارہ داری کی حد تک اعلیٰ مواقع حاصل ہیں۔ مگر زمانہ سے بے خبری کی بنا پر مسلمان اب تک اس امکان کو اپنے حق میں استعمال نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page