گر کر اٹھنا
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۲
گر کر اٹھنا
فیض آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عربی مدرسہ سے فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد میں ایک مدرسہ میں استاد ہو گیا۔ پھر مجھے خیال ہوا کہ میں اپنی آمدنی بڑھاؤں۔ میں نے کچھ لوگوں سے پیسہ لیا اور مضاربت کے اصول پر کاروبار شروع کیا۔ مگر کئی سال کی کوشش کے باوجود میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب میرے اوپر لوگوں کا قرض لدا ہوا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میں سخت احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ مجھے کچھ مشورہ دیں تا کہ میں اس دلدل سے نکل سکوں۔
میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے یہ کیجئے کہ آپ اپنے ذہن کو بدلے۔ آپ یہ نہ کہیے کہ میں احساس کمتری میں مبتلا ہوں، بلکہ یہ کہیے کہ میں احساس غلطی میں مبتلا ہوں۔ کمتری کا احساس آدمی کو پست ہمت بناتا ہے۔ اس کے برعکس غلطی کا احساس آدمی کے اندر نیا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی غلطی کو جان کر دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ آخر کار وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح بمبئی کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی کچھ ناکامیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اب میں اپنے کو ایک ہارا ہوا انسان سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ سوچیں کہ میں ہار گیا بلکہ آپ یہ سوچئے کہ میں نے غلطی کی۔ آپ جب اس طرح سوچیں گے تو آپ کے اندر نیا حوصلہ ابھرے گا۔ اب آپ یہ سوچیں گے کہ پہلا چانس تو میری غلطی سے کھویا گیا۔ اب مجھ کو چاہیے کہ زیادہ ہوش مندی کے ساتھ کام کروں اور دوسرے چانس کو نہ کھوؤں۔
کامیابی اور ناکامی دونوں کا تعلق سوچ سے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اگر عملی زندگی میں اس کو کوئی ہار ہو جائے تو وہ سوچ کی سطح پر کبھی نہ ہارے۔ ایسے آدمی کو کوئی بھی چیز کامیابی سے روکنے والی نہیں۔ غلطی کا اعتراف ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ نئے حوصلے کے ساتھ جیتنے کا دوسرا نام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues