نہ لڑنا بھی ایک اصول ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۳
نہ لڑنا بھی ایک اصول ہے
ہاتھی کے چھوٹے بچہ کا راستہ روکنے کے لیے آپ اس کے آگے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ بچہ جب بڑھتے بڑھتے پورا ہاتھی بن جائے تو آپ کو خود اس کے راستے سے ہٹ جانا چاہیے۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس اصول کی تصدیق خود قرآن میں موجود ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں سلطنتِ سبا کی تاریخ کا ایک حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی میں بہت سی فتوحات حاصل کی تھیں۔ مگر جب ان کا مقابلہ سلیمان بن داؤد سے پیش آیا جن کو خدا نے ھب لی ملكا لا ينبغي لأحد من بعدى (ص ۳۵) کی نسبت دی تھی تو ان کے سربراہ سلطنت نے جنگی مقابلہ کرنے کے بجائے پر امن مصالحت کا طریقہ اختیار کیا (النمل ۳۴) یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اس کا تعلق فرد سے بھی ہے اور قوم سے بھی۔ جو لوگ اس اصول کا لحاظ نہ کریں وہ یقیناً اپنے کو تباہ کر لیں گے، خواہ انہوں نے اپنا یہ عمل جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاءِ کلمہ اللہ کے نام پر کیوں نہ کیا ہو۔
یہ صحیح ہے کہ تمام طاقتوں کا مالک خدا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ موجودہ دنیا میں خدا نے انسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کا تعلق خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) سے ہے۔ اسی نقشہ کی بنیاد پر ہر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اس لیے آزادی کا یہ نظام ہر گز ختم ہونے والا نہیں۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور خدا موجودہ نقشہ کو بدل کر ایک اور نقشہ کے مطابق دنیا کا نظام قائم کرے۔
زندگی میں اقدام سے زیادہ صبر کی اہمیت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ بے فائدہ ٹکراؤ سے بچ کر اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنانا اور مثبت تعمیر کے میدان میں آگے بڑھتے رہنا۔ صبر زندگی کے ہر مرحلہ میں ضروری ہے۔ معاملات میں صبر کی اہمیت اگر ۹۹ فی صد ہے تو اقدام کی حیثیت صرف ایک فی صد۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues