نہ لڑنا بھی ایک اصول ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۴
دو قسم کے انسان
کامیاب انسان کون ہے اور ناکام انسان کون۔ ایک جملہ میں دونوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ ۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کو ناکامی کا اندیشہ لگا ہوا ہو اور ناکام انسان وہ ہے جو کامیابی کے یقین کے ساتھ اپنے عمل کا آغاز کرے۔
اصل یہ ہے کہ دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی اپنے کام کے معاملہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ جو آدمی سنجیدہ اور حقیقت پسند ہو وہ اپنے غور وفکر کے ذریعہ اس بات کو جان لے گا کہ دنیا میں خواہ کوئی بھی کام کیا جائے ہر معاملہ میں اس کی اپنی کوشش پچاس فیصد ہوتی ہے اور بقیہ پچاس فیصد عوامل وہ ہیں جو اس کی ذات سے باہر ہیں۔ ان دونوں قسم کے عوامل کی موافق یکجائی سے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو کامیابی کہتے ہیں۔
کامیابی کے احساس میں جینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے بارہ میں زیادہ اندازہ (over-estimation) کی نفسیات میں مبتلا ہو۔ ایسا آدمی غیر حقیقت پسند بن جائے گا۔ وہ اپنی طاقت سے زیادہ بڑا اقدام کر ڈالے گا۔ وہ کامیابی کے فرضی یقین کے تحت ناکامی کی طرف چھلانگ لگا دے گا۔ نہ ملنے والی چیز کے شوق میں وہ ملنے والی چیز کو بھی کھو دے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو ناکامی کے اندیشہ میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنی داخلی نفسیات کی بنا پر ہمیشہ چوکس رہے گا۔ وہ جذباتی فیصلہ کے تحت کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ اُس کا سفر ہاتھی کی مانند ہوگا۔ ہاتھی جب کسی نالہ یا ندی کو پار کرتا ہے تو وہ ہر قدم سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔ کیوں کہ اُس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر اس کا پاؤں کسی نرم زمین میں دھنس گیا تو اپنے بھاری بھر کم جسم کی بنا پر وہ اس میں پھنس کر رہ جائے گا۔
دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے پلس پوائنٹ کے ساتھ اپنے مائنس پوائنٹ کو بھی جانے۔ وہ اپنی کمیوں پر نظر رکھتا ہوا آگے بڑھے۔ ایسا آدمی زندگی کے سفر میں کبھی ناکام نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues