Al-Risala · February 2005 · page 35

زندگی کی جدوجہد

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۵

زندگی کی جدوجہد

زندگی ایک جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد انسان کے پیدا ہوتے ہی شروع ہوتی ہے اور اُس کی عمر کے آخر وقت تک باقی رہتی ہے۔ زندگی کبھی جدوجہد سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی کی زندگی جدو جہد سے خالی ہو تو وہ زندگی ہی نہ ہوگی۔ جدوجہد کے بغیر زندگی ایک قسم کی موت ہے، وہ کوئی مطلوب زندگی نہیں۔

جدوجہد انسان کو تازہ دم رکھتی ہے۔ جدوجہد کے ذریعہ ذہن ارتقاء کرتا ہے۔ جدوجہد کے ذریعہ انسان کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ جدوجہد انسان کو پختگی عطا کرتی ہے۔ جدوجہد کے دوران آدمی کو ہر قسم کے تجربات حاصل ہوتے ہیں۔ جدوجہد ایک ناقص انسان کو کامل انسان بناتی ہے۔ جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ جدوجہد کرنے والا تو وہ خود ہے۔ مگر جس دنیا میں اس کو جدوجہد کرنا ہے وہ دنیا خود اُس نے نہیں بنائی۔ بلکہ اُس کو بنانے والا کوئی اور ہے۔ اس دنیا کا اپنا ایک قانون ہے۔ یہ قانون کبھی بدلنے والا نہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی جدوجہد کو دنیا کے نقشہ سے مطابقت کرتے ہوئے چلائے۔ وہ دنیا کے فطری نظام کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرے بلکہ اُس کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے سفر کو جاری رکھے۔ جدوجہد کیا ہے۔ جدوجہد دراصل مواقع فطرت کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اس دنیا میں بے شمار مواقع ہیں۔ یہ مواقع ہر ایک کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو ان مواقع کو دریافت کرے اور فطرت کے قانون کی رعایت کرتے ہوئے ان کو استعمال کرے۔ اسی دریافت اور اسی استعمال کے نتیجہ کا دوسرا نام کامیابی ہے۔

کامیابی کوئی اتفاقی چیز نہیں۔ کامیابی دراصل درست عمل کے درست انجام کا دوسرا نام ہے۔ جدوجہد اور کامیابی کے درمیان وہی نسبت ہے جو درخت کے بیج اور درخت کے پھل کے درمیان ہوتی ہے۔ جہاں بیج ہوگا وہاں درخت ہوگا اور جہاں درخت ہوگا وہاں پھل بھی ضرور مل کر رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page