اعتراف نئے دور کا آغاز
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶
اعتراف نئے دور کا آغاز
ہر آدمی غلطی کرتا ہے اور سب سے بہتر غلطی کرنے والا وہ ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے غلطی کی۔ غلطی کا اعتراف غلطی کرنے والے کے لیے نئے درجات کا آغاز ہے۔ جب کہ اس کے برعکس جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے وہ اسی غلطی میں بدستور پڑا رہے گا۔ وہ کبھی اس سے نکل نہ سکے گا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا بزدلی ہے اور غلطی کا اعتراف کرنا بہادری۔ غلطی کرنا ایک نقصان کی بات ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کرلے تو گویا اس نے اپنے نقصان کی تلافی کرلی۔
غلطی کا اعتراف تمام انسانی خوبیوں میں سب سے بڑی انسانی خوبی ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وہ کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، اُس کے اندر اس اعتراف کے نتیجہ میں ہر قسم کی مثبت خوبیاں پروان چڑھنے لگتی ہیں۔ اُس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے، اور تواضع علم کی دنیا میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ اس کے اندر اصلاحِ خویش کا مادہ پیدا ہوتا ہے جو اس کی شخصیت کو مسلسل ارتقاء یافتہ شخصیت بناتا رہتا ہے۔ اُس کے اندر حقیقتِ واقعہ کے اعتراف کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو اس کو کامل حق تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اُس کے اندر مثبت طرزِ فکر پیدا ہوتا ہے اور مثبت طرزِ فکر تمام انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ اس کے اندر متکبرانہ نفسیات کی جڑ کٹ جاتی ہے، اور جو شخص متکبرانہ نفسیات سے پاک ہو وہی وہ شخص ہے جس نے سچی انسانیت کا تجربہ کیا۔
غلطی کا اعتراف ذہن کے بند دروازوں کو کھولتا ہے۔ غلطی کا اعتراف آدمی کو قلب کی تنگی سے بچاتا ہے۔ غلطی کا اعتراف بظاہر ایک سادہ بات ہے۔ مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ اتنی بڑی خوبی ہے کہ اس سے بڑی خوبی اور کوئی نہیں۔ جو آدمی اعلیٰ انسانی درجہ تک پہنچنا چاہتا ہو اُس کو ہمیشہ غلطی کے اعتراف کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
غلطی کا اعتراف کرنا ایسا ہی ہے جیسے ٹھوکر کھانے کے بعد دوبارہ اُٹھ کھڑا ہونا۔ ایسے آدمی کا راستہ کبھی رکنے والا نہیں۔ وہ ضرور منزل پر پہنچ کر رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues