زحمت بھی رحمت ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۷
زحمت بھی رحمت ہے
زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ایک مشہور مقولہ ہے ۔ یہ مقولہ فطرت کے ایک اُصول کو بتاتا ہے ۔ وہ اصول یہ کہ جب کسی انسان کو زحمت پیش آتی ہے تو اس کی ذہنی صلاحیتیں متحرک ہوتی ہیں ۔ وہ زیادہ بہتر طور پر کام کرنے کی پوزیشن میں ہو جاتا ہے۔ اسی بات کو کسی نے ان الفاظ میں کہا ہے کہ۔ آسانی نہیں بلکہ کوشش ، سہولت نہیں بلکہ دشواری وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے : It is not ease but effort, not facility but difficulty that makes men. انسان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہیں ۔ یہ صلاحیتیں سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے جس کو شاک ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ زندگی کی مشکلات یہی شاک ٹریٹمنٹ کا کام کرتی ہیں۔ وہ بند ذہن کو کھولتی ہیں۔ وہ جامد انسان کو حرکت میں لاتی ہیں۔ وہ ایک معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بنا دیتی ہیں۔ جب آدمی کو کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ فطرت نے اس کی زندگی میں وہ عمل (process) جاری کیا ہے جو اس کے اپنے فائدے کے لیے ضروری ہو۔ جو اس کو ترقی کی منزل کی طرف لے جانے والا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ مشکل کو مشکل نہ سمجھے بلکہ وہ اس کو چیلنج سمجھے ۔ مشکل کا لفظ بے ہمتی پیدا کرتا ہے۔ مگر جب مشکل کو چیلنج کے روپ میں لیا جائے تو وہی چیز اس کا حوصلہ بڑھانے والی بن جائے گی۔ جب کوئی مشکل پیش آئے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ معتدل ذہن کے تحت سوچے ۔ وہ دل شکستہ ہونے کے بجائے صورتِ حال کا جائزہ لے۔ وہ اپنے عمل کی از سرِ نو منصوبہ بندی کرے ۔ وہ حالات کے اندر نئے امکانات کو تلاش کرے ۔ وہ پورے معاملے کا دوبارہ اندازه (re-assessment) کرے ۔ جب کوئی آدمی ایسا کرے تو اس کے بعد وہ پائے گا کہ دشواری ایک قابلِ حل مسئلہ تھی ، وہ ایسا مسئلہ نہیں تھی جس کا کوئی حل ہی موجود نہ ہو۔ نادان انسان کے لیے مشکل ایک رکاوٹ ہے۔ مگر دانش مند انسان کے لیے مشکل ترقی کا زینہ بن جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues