Al-Risala · January 2006 · page 9

سیاسی اصطلاحیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۹

سیاسی اصطلاحیں

دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں بعد کے زمانے میں اس وقت وضع کی گئیں جب کہ مسلمانوں کا ایک پولیٹیکل امپائر بن چکا تھا۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہو چکا تھا۔ اس سیاسی ماحول میں فقہ کی تشکیل ہوئی۔ اس صورت حال کا نتیجہ قدرتی طور پر یہ ہوا کہ فقہ کی تدوین و تشکیل میں سیاسی نقطہ نظر غالب آ گیا۔ فقہ عملاً مسلمانوں کے دور سلطنت کا اظہار بن گئی۔ اس کی ایک مثال دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں ہیں۔ ان اصطلاحات میں شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مفروضہ کام کر رہا تھا کہ مسلمان سیاسی طور پر غالب پوزیشن میں ہیں اور وہ اپنی اس سیاسی پوزیشن کے حوالے سے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متعین کر رہے ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سیاسی اقتدار کسی گروہ کا ایک وقتی مرحلہ (temporary phase) ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں بننے والی فقہ، اسلام کے ابدی تقاضوں کا اظہار نہ تھی، وہ زیادہ تر وقتی ضرورتوں کے تحت مدون کی گئی۔

قرآن وسنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ خدا کے رسول کے ذریعے مسلمانوں کو خدا کا پیغام ملا ہے اور اس پیغام کو انھیں تمام قوموں تک پہنچانا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس عمل کو نسل در نسل جاری رکھیں ۔ دوسری قوموں کی نسبت سے مسلمانوں کا تعلق متعین کرنے کے لیے مرکزی تصور یہی ہے۔ یہ تصور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مدعو فرینڈلی بناتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان ہمیشہ نارمل تعلق قائم ہو، تا کہ دعوت کا عمل مؤثر انداز میں جاری رہے۔

مگر فقہ کی تدوین کے وقت مسلم دنیا میں جو سیاسی ماحول تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی ابواب تو فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ شامل ہو گئے مگر دعوت اور تبلیغ کا باب سرے سے اس میں شامل نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ کی تمام تر کتابیں کتاب الدعوة والتبلیغ سے خالی نظر آتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page