سیاسی اصطلاحیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
فقہ کی کتابوں کے ان ابواب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا حاكم اور محکوم میں تقسیم ہے۔ ایک طرف مسلم حکمراں ہیں اور دوسری طرف محکوم غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے مطلوب حالت یہ ہے کہ زمین پر ان کا سیاسی اقتدار قائم ہو، یعنی وہ حالت جس کو فقہ میں دار الاسلام کہا گیا ہے۔ اس کے بعد جو بقیہ دنیا ہے وہ یا تو ’’غیر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے جس کو فقہ کی تقسیم میں دار الكفر بتایا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ مسلمانوں کے لیے وہ خطہ دار الحرب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی مسلمان ان سے برسرِ جنگ ہیں تا کہ وہاں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔
اسلام کا یہ تصور بلاشبہ اسلامی تاریخ کی سیاسی تعبیر کے ہم معنی ہے۔ اقتدار مسلمانوں کی مستقل وراثت نہیں۔ قرآن کے مطابق، اقتدار دوسرے تمام سامانِ حیات کی طرف صرف ایک ٹسٹ پیپر ہے اور وہ ہر قوم کو باری باری دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اس اصول کو مان لیا جائے تو دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں اپنے آپ غیر متعلق (irrelevant) ہو جاتی ہیں۔
دار الاسلام، دار الكفر اور دار الحرب کی اصطلاحوں کے پیچھے یہ سیاسی مفروضہ شامل ہے کہ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے، مگر یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن و سنت میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو قرآن میں شاہد اور مشہور (البروج ٣) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک مسلم پروفیسر نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈسٹی کا ماڈل موجود نہیں۔ یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ انھوں نے اسلام کا ماڈل بعد کے مسلم دور اقتدار سے اخذ کیا۔ اس سے پہلے اسلام کے نبوی دور میں اسلام کا جو ماڈل تھا وہ تمام تر پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل تھا۔ حالاں کہ اسلام میں اصل ماڈل کی حیثیت دَورِ دعوت کی ہے نہ کہ دَورِ اقتدار کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues