Al-Risala · March 2006 · page 5

US and Middle East.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۵

ہوئے مضمون نگار (Yevgeny Satanovsky) نے لکھا تھا کہ: اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کے سیاسی حوصلوں کے مقابلے میں اس کی فوجی طاقت بہت محدود ہے:

The problem is that the US pursues global interests but its military and economic resources are not unlimited. (p. 6)

یہ بات بالکل درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ امریکہ کا عالمی توسیع کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کے توضیعی عزائم تو لامحدود تھے مگر اس کے مقابلے میں اس کی طاقت بہت محدود تھی۔ یہ اصول ہر ایک پر صادق آتا ہے، اس میں سپر پاور اور غیر سپر پاور کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا حکومت کا، دونوں ہی کے لیے کامیابی کا اصول صرف ایک ہے۔ حوصلے اور امکان کے درمیان درست تناسب کو دریافت کرنا۔ اسی حکمت کا نام منصوبہ بندی یا پلاننگ ہے۔

انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین (Swagat) کے شمارہ جولائی میں ایک مضمون کشمیر اور کشمریت کے بارے میں تھا۔ لکھنے والے کا نام پوجا رتنا کر (Pooja Ratnakar) تھا۔ مضمون نگار نے کشمریت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کشمریت تین چیزوں کا نام ہے—بودھ رحم دلی، ہندو رواداری اور زندگی کے بارے میں مسلم ذوق اور زندہ دلی:

It has been a mix of Budhist compassion, Hindu tolerance and Muslim zest for life. (p. 88)

اس اقتباس میں کشمریت سے مراد عملی طور پر اسلام ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بدھازم اور ہندو ازم کی ایبی (تصویر) تو لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ بدھازم رحم دلی کا مذہب ہے اور ہندو ازم رواداری کا مذہب۔ اس کے برعکس اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ اسلام محض ذوق وشوق کا مذہب ہے۔ اسلام کی یہ تصویر قرآن وحدیث کو پڑھنے سے نہیں بنی، بلکہ وہ کشمیر یوں کو دیکھنے سے بنی ہے۔ کشمیریوں کے درمیان ایک طرف تو اسلامی نظام اور نظامِ مصطفیٰ کی دھوم لوگوں نے دیکھی۔ دوسری طرف کشمیریوں کا حال یہ ہے کہ ہر چیز میں ان کے یہاں ظاہری نمائش نظر آتی ہے۔ لذتی کھانوں سے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page