US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۴
جو لوگ خوش حالی کے ماحول میں پیدا ہوئے انھوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں۔ فرانس کا لوئی بریل (وفات: ١٨٥٢) تین سال کی عمر میں اندھا ہو گیا تھا۔ اس اندھے شخص نے وہ عظیم کام انجام دیا جس کو بریل سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اندھے بھی لکھنے اور پڑھنے لگے۔ حتیٰ کہ اندھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر بنے۔ مثلاً ڈاکٹر طہ حسین (مصر، وفات: ١٩٧٣) وغیرہ۔ برطانیہ کا اسٹیفن ہاکنگ اتنا معذور ہے کہ وہ وہیل چیئر پر رہتا ہے۔ مگر وہ موجودہ دنیا میں نظریاتی فزکس کا سب سے بڑا عالم مانا جاتا ہے۔ وہ یونیورسٹی میں نیوٹن کی سیٹ پر فائز ہے۔ دہلی ایئر پورٹ پر میں ونڈو کی لائن میں بورڈنگ کارڈ لینے کے لیے کھڑا تھا۔ ایئر پورٹ کا ایک آدمی جو بظاہر افسر دکھائی دیتا تھا اس نے کہا: سر، آپ کرسی پر بیٹھ جائیے ہم آپ کا چیک ان (check-in) کرا دیتے ہیں۔ یہ سن کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے سوچا کہ کاش مرنے کے بعد آخرت کے مرحلے میں بھی میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہو۔ وہاں بھی خدا کا کوئی فرشتہ آکر میرے معاملے کو آسان کر دے۔ دہلی سے بنگور تک کا سفر انڈین ایئر لائنز سے ہوا۔ اس جہاز کو دہلی سے ساڑھے نو بجے روانہ ہونا تھا۔ مگر جہاز آدھا گھنٹہ لیٹ تھا۔ دہلی اور بنگور کے درمیان پرواز کا وقت ڈھائی گھنٹے ہوتا ہے۔ پرواز کے دوران کچھ اخبارات مطالعے کے لیے دیئے گئے۔ ان اخبارات سے کچھ سبق آموز آئٹم یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔
انگریزی اخبار اسٹیٹس مین (The Statesman) نئی دہلی کے شمارے ٢٠ جولائی ٢٠٠٥ میں ایک مضمون تھا۔ جس کا عنوان یہ تھا:
US and Middle East.
اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکا کی یہ کوشش کہ وہ ویسٹرن اسٹائل ڈیموکریسی کو مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا میں ایکسپورٹ کرے، اُسی طرح نا کام ہو گئی جس طرح اس سے پہلے سوویت یونین کی طرف سے سوشلزم کو باہر کی دنیا میں ایکسپورٹ کرنے کی کوشش نا کام ہو گئی تھی ۔ یہ بتاتے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues