US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۶
لے کر شادی کی دھوم، اور گھر کی رسموں سے لے کر کلچرل سرگرمیوں تک ہر جگہ وہی منظر دکھائی دیتا ہے، جس کو مضمون نگار نے ذوق اور زندہ دلی (zest) سے تعبیر کیا ہے۔
کشمیر کی اس غیر موافق صورت حال کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ کشمیر کے خود ساختہ رہنماؤں نے کشمیر میں اسلامی نظام کا نعرہ بلند کیا، اور نظامِ مصطفیٰ قائم کرنے کے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا۔ اس کا سبب ایک غلط مفروضہ تھا جو تقربیاً تمام مسلم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران، مصر اور سوڈان وغیرہ۔
ہر جگہ نام نہاد اسلام پسندوں نے کہا کہ ان ملکوں کی عظیم اکثریت مسلمان ہے اس لیے یہاں اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ اسلامی نظام کسی علاقے میں اس لیے نہیں قائم ہو سکتا کہ وہاں پیدائشی مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ اسلامی نظام وہاں قائم ہوگا جہاں اسلامی کردار رکھنے والوں کی اکثریت ہو۔ یہی وہ بھیانک غلط فہمی تھی جس نے موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر اٹھائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کو عملاً ناکام بنا دیا۔
اس بھیانک غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ مسلم وہ ہے جو کلمہ گو ہو۔ حالاں کہ مسلم وہ ہے جو عارفِ کلمہ نہ ہو کہ صرف قائلِ کلمہ۔ اسلام کا آغاز کسی شخص کی زندگی میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اسلام کو بطورِ سچائی کے دریافت کرے۔ محض مسلم خاندان میں پیدا ہونا یا کلمے کو صحیح تلفظ کے ساتھ زبان سے بول دینا، یہ مسلم ہونے کے لیے کافی نہیں۔
اس بھیانک غلط فہمی کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جو بھی تحریک اٹھتی ہے وہ عملی اقدام سے اپنے کام کا آغاز کرتی ہے۔ حالاں کہ تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ افراد کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنے سے اس کا آغاز کیا جائے۔ فکری تبدیلی سے آغاز ہی کا نام آغاز ہے، موجودہ حالت میں عملی اقدام سے آغاز کا نام آغاز ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سی تحریکیں بظاہر عملی دھوم دھام سے شروع ہوئیں مگر وہ جلد ہی بے نتیجہ طور پر ختم ہو گئیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: یا ایہا الذین آمنوا آمنوا (النساء ۱۳۶) اس آیت کا مطلب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues