Al-Risala · March 2006 · page 7

US and Middle East.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۷

یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسلمان جو کلمہ گوئی کی بنا پر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اسلام کی معرفت حاصل کریں اور شعوری معنوں میں حقیقی مومن بنیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات گروہ ہی بنیاد پر نہیں ہوگی۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ یکساں درجے میں شامل کرتے ہوئے چار مذہبی گروہوں کا ذکر ہے۔ مسلم گروہ، یہودی گروہ، مسیحی گروہ، اور صابی گروہ۔ ان تمام مذہبی گروہوں کو ایک ساتھ بریکٹ کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان گروہوں میں سے جو افراد ایسا کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں، وہ اپنے اندر باشعوری ایمان پیدا کریں اور عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی اختیار کریں تو ایسے افراد خدا کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے اور ان کو ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ گویا کہ خواہ مسلمانوں کا نسلی گروہ ہو یا دوسرے مذہبوں سے منسوب گروہ، ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ سچے خدائی مذہب کو از سر نو دریافت (rediscover) کرے۔ اس ری ڈسکوری کے بغیر مسلم گروہ سمیت کسی کا مذہب بھی قابل اعتبار نہیں۔ سفر سے تین دن پہلے ۱۷ جولائی ۲۰۰۵ کو اتوار کا اسپر پچول کلاس سی ۔ ون (1-C) نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں تھا۔ یہاں بلڈنگ کے ایک پورے فلور کو خالی کر کے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب انشاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔ اس اسپر پچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا چاہیے تھا۔ یہ صاحب خود بھی ۱۷ جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔

میں نے کہا کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے دعوتی زاویہ۔ فقہی نقطہ نظر سے آپ کی بات درست ہو سکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے دیکھیے تو یہاں جو ہو رہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page