US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۸
سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہو رہا ہے عملی طور پر وہی درست ہے۔ یہ دراصل تالیف قلب کا مسئلہ ہے اور تالیف قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔
تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوٰۃ کی آٹھ مدوں میں سے ایک مد تالیف قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ تالیف قلب ایک دعوتی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد دعوت کے موافق ماحول بنانا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوں کو کسی نوعیت کا مادی فائدہ پہنچانا تاکہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور و فکر کر سکیں۔ خلاصہ یہ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے اسی کو مدعو فرینڈلی کے طور پر استعمال کرنے کا نام تالیف قلب ہے۔ جس جہاز سے میں نے دہلی سے بنگلور کا سفر کیا وہ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے بیشتر مسافر غالباً تاجر تھے۔ یہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران دہلی اور بنگلور کے درمیان کاروبار بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز میں کئی لوگ بزنس کے موضوع پر بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ فیملی کی ضرورت کے تحت سفر ہو تو جہاز میں عورت اور بچے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب سفر کرنے والے تاجر ہوں تو ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے۔ پرواز کے دوران موبائل کے استعمال کی اجازت نہیں۔ اس لیے پرواز شروع کرنے سے پہلے اور پرواز کے خاتمے پر بیشتر لوگ اپنے موبائل میں مشغول نظر آتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بزنس کا نہایت گہرا تعلق کمیونیکیشن سے ہو گیا ہے۔ اور موبائل اسی کمیونیکیشن کا ایک ذریعہ ہے۔
ہوائی جہاز بنگلور ایر پورٹ پہنچا تو یہاں پٹا رتھی کی کانفرنس کے دو آدمی میری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ ایر پورٹ سے پٹا رتھی کا سفر کار سے تقریباً چار گھنٹے کا ہوتا ہے۔ ایر پورٹ پر حلقہ الرسالہ کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔ یہ طے ہوا کہ پہلے شہر میں مسٹر اعجاز کے مکان پر جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues