Al-Risala · March 2006 · page 9

US and Middle East.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۹

وہاں ظہر کی نماز ادا کریں اور پھر آگے کے لیے روانہ ہوں ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک ادارہ الفلاح کے نام سے قائم کیا ہے۔ مسٹر اعجاز احمد کے مکان پر کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔ یہاں ان سے اسلامی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے ۔ میں نے کہا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو غیر مسلم یا کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتی کہ دل سے بھی انہیں ایسا نہ سمجھا جائے ۔ ان کو صرف انسان سمجھا جائے ۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیرخواہی پیدا نہیں ہوگی ، اور سچی خیرخواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا ، وہ سب کو یکساں طور پر انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح داعی وہ ہے جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ فرمایا کہ اے انسانو۔ پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ مگر رسول اور اصحاب رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیرخواہی موجود تھی۔ یہی جذبہ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کر لیتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جا رہے ہیں مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذاتِ خود یہ سب کام مفید ہو سکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page