US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
۲۰ جولائی کو چند گھنٹے مسٹر اعجاز کے مکان پر گذار کر دو بجے بنگور سے پٹا پڑتھی کے لیے روانگی ہوئی۔ سڑک اچھی تھی۔ بارش کی وجہ سے سڑک کے دونوں طرف دور تک ہریا لی دکھائی دے رہی تھی۔ یہ پورا سفر اسی ماحول میں ہوا۔ سبزہ نہ صرف زمین کا حسن ہے بلکہ وہ زمین کا ایک زندگی بخش عنصر ہے۔ زمیں پر خالق نے ہمارے لیے جو لائف سپورٹ سسٹم قائم کیا ہے اس میں سر سبز درختوں کا کردار بے حد اہم ہے۔ درختوں کا منظر خدا کی صفت رحمت کا مشاہدہ کراتا ہے، درخت نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کے ذرائع کی بنا پر سفر نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ مثلاً دہلی کے ایر پورٹ پر ہم کو کانفرنس والوں کا ٹیلی فون ملا، جس میں انھوں نے نام کے ساتھ بتا دیا کہ کون لوگ ہماری رہنمائی کے لیے بنگلور ایر پورٹ پر موجود ہوں گے۔ اسی طرح جب میں بنگور سے بذریعہ کار آگے جا رہا تھا تو موبائل کے ذریعے مسلسل کانفرنس کے دفتر (پٹا پڑتھی) سے ربط قائم تھا۔ کانفرنس کے ذمے داروں کو پیشگی طور پر معلوم تھا کہ اب ہماری گاڑی کس مقام سے گذر رہی ہے۔ بنگلور اور پٹا پڑتھی کے درمیان ہم لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھہرے ۔ یہ چک بالا پور تھا۔ یہاں ایک صاف ستھرا ریسٹوران موجود تھا، جس میں کھانے پینے کے سامان کے علاوہ دوسری انسانی ضروریات کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس قسم کا ریسٹوران بھی دور جدید کی ایک دین ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے عوامی ریسٹوران کا تصور موجود نہ تھا۔ اس قسم کی سہولت صرف بڑے دولت مندوں کے لیے ممکن تھی۔ جن کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:
منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت ۲۰ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو ہم لوگ پٹا پڑتھی پہنچے۔ پٹا پڑتھی آندھرا پردیش کا ایک گاؤں تھا۔ سائی بابا اسی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اب اس گاؤں کو ترقی دے کر ایک شہر کی مانند بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تمام شہری سہولتیں حاصل ہیں۔ تعلیم اور طبی خدمات کا اعلیٰ انتظام، جدید طرز کی لائبریری اور دوسری تمام ماڈرن سہولتیں یہاں موجود ہیں ۔ یہ سائی سنٹر بہت بڑے رقبے میں واقع ہے۔ یہاں سائی بابا کا پرائیویٹ ایئر پورٹ بھی بنا ہوا ہے۔ سر سبز درختوں اور کھلے میدانوں کے درمیان اس سنٹر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues