US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
میں ہم کو چند دن گزارنا تھا۔ پٹاپر تھی کو اب انٹرنیشنل ولج کہا جاتا ہے۔ مجھے اس سنٹر کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا ۔ یہ گیسٹ ہاؤس میرے ذوق کے مطابق تھا۔ یہاں تکلفات والی کوئی چیز نہ تھی۔ مگر سادگی، صفائی، سکون اور باقاعدگی جیسی چیزیں یہاں کامل طور پر موجود تھیں ۔ یہ شور اور دھوئیں سے پاک ایک دنیا تھی۔ تازہ ہوا اور چڑیوں کی آوازیں یہاں کے ماحول کو ایسا بنائے ہوئے جیسے کہ آدمی فطرت کی آغوش میں جی رہا ہو۔
دعوت نامے کے اعتبار سے میں سائی سنٹر میں آیا تھا، مگر ماحول کے اعتبار سے میں گویا فطرت کا مہمان تھا۔ یہاں کا پورا ماحول گویا فطرت کا ایک تعارف تھا۔ صبح کے وقت یہاں اگر چہ لاؤڈ سپیکر سے بلند ہونے والی اذان سنائی نہیں دیتی تھی، مگر صبح ہوتے ہی چڑیاں قدرتی مؤذن کا کام کرتی تھیں ۔ وہ اپنی سہانی آواز میں بتاتی تھیں کہ فجر کا وقت ہو گیا اور صبح کی عبادت کا لمحہ شروع ہو گیا۔ یہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس لیے یہاں دنیا کے مختلف مقامات کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں سے ملاقاتوں کے درمیان مذہب ، روحانیت، ہندوازم اور اسلام کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ میرے ساتھی دہلی سے ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی انگریزی کتابیں لے آئے تھے۔ یہ لوگوں کو مطالعے کے لیے دی گئیں۔ سائی بابا کو بھی کئی انگریزی کتابیں دی گئیں۔ جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ میں اور میرے ساتھی ان کتابوں کو پڑھیں گے۔ یہاں تمام لوگ انگریزی زبان بولتے تھے، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہم تمام مذہبوں کو مانتے ہیں، ہر مذہب ہمارے نزدیک برابر ہے۔ آدمی جس مذہب کو بھی اختیار کر لے وہ سچائی کو پا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ ابتدائی طور پر تمام مذاہب یکساں تھے اور ہر مذہب میں سچائی موجود تھی تو ماضی کے اعتبار سے آپ کا یہ بیان بالکل درست ہوگا۔ مگر آپ کا یہ بیان حال کے اعتبار سے درست نہیں۔
میں نے کہا کہ آج آپ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں ہیں ۔ ہر مذہب کی کتابیں چھپی ہوئی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر یہ آج کی بات ہے ، قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔ قدیم زمانے میں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues