US and Middle East.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲
کتابیں لوگوں کے حافظے میں رہتی تھیں۔ وہ عوام تک نہیں پہنچی تھیں ۔ اس بنا پر ان کتابوں میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ چنانچہ آج قدیم زمانے کی کوئی بھی مذہبی کتاب اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ۔ اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ جب کہ قدیم طرز کا کاغذ وجود میں آچکا تھا۔ جس کو پپائرس (Papyrus) کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں کتابت کا فن ترقی کر چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ قرآن کا کاغذ پر لکھ کر باقاعدہ جلد کی صورت میں تیار کر لیا گیا۔ اس کے بعد لوگ اس کی نقل کر کے مزید جلدیں تیار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ اب قرآن کے نسخے چھاپ کر تیار کیے جانے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر گھر، ہر ادارے اور ہر لائبریری میں پہنچ گیے۔ اس طرح اب یہ امکان ہی باقی نہ رہا کہ قرآن میں کوئی تبدیلی کی جاسکے۔ اس طرح بطور ایک تاریخی حقیقت ، نہ کہ صرف بطور عقیدہ، ایسا ہوا کہ قرآن مستند مذہبی متن کے طور پر باقی رہا۔ قرآن کے سوا کسی بھی مذہب کی کوئی مقدس کتاب ایسی نہیں جو اپنی اصل حالت پر آج باقی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی طالبِ حق کے لیے علمی طور پر اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ وہ قرآن کو مستند کتاب کے طور پر لے اور اس سے ہدایت حاصل کرے ۔
کانفرنس کے ایک اور صاحب سے گفتگو ہوئی ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو قرآن سے سمجھو، مسلمانوں کی زندگیوں سے اسلام کو نہ سمجھو۔ مگر سوال یہ ہے کہ قرآن اگر آپ کے کہنے کے مطابق ، سچی کتاب ہے تو مسلمان جو قرآن کو مانتے ہیں ، ان کی عملی زندگی میں قرآن کیوں نہیں۔ ایسے قرآن سے کیا فائدہ جو اپنے ماننے والوں کو اپنا پیروکار نہ بنا سکے۔ میں نے کہا کہ قرآن کا معاملہ الگ ہے اور مسلمانوں کا معاملہ الگ۔ قرآن کی حیثیت ایک کتاب کی ہے جب کہ انسان موجود دنیا میں ٹسٹ کی حالت میں ہے۔ یہ ٹسٹ جس طرح دوسرے انسانوں کا ہے، اسی طرح وہ مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ ٹسٹ کے معاملے میں مسلمان اور دوسرے انسانوں میں کوئی فرق نہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اتریں یا پورے نہ اتریں ، اسی طرح مسلمانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اترتے ہیں یا پورے نہیں اترتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues