We have complete faith in the Qur'an.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳
قرآن آزادانہ طور پر معیار کی ایک کتاب ہے۔ خدا جس طرح دوسرے انسانوں کو قرآن کے معیار سے جانچے گا، اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی قرآن کے معیار سے جانچے گا، اور جو شخص اس معیار پر جیسا ثابت ہوگا ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ اس معاملے میں مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اس قیام کے زمانے میں کانفرنس کے شرکاء سے برابر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقاتیں زیادہ تر ناشتے اور کھانے کی میز پر ہوتی تھیں۔ یہی ہر کانفرنس کا طریقہ ہے۔ کانفرنس کی کارروائیوں کے درمیان تبادلہ خیال کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چائے، ناشتے، اور کھانے کے اوقات میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
ایک بار گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ سائی بابا خدائی اوتار (god incarnet) ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں کئی افراد خدائی اوتار کہے جاتے ہیں۔ مثلاً پاپر تھی کے سائی بابا، شانتی گری آشرم کے گرو، ساؤتھ کوریا کے مسٹرمون، اور اس طرح کے دوسرے کئی لوگ۔ پھر اگر خدا ایک ہے تو اس کے اوتار اتنے زیادہ کیوں۔ آپ اس کی توجیہہ کس طرح کریں گے۔ اس موضوع پر دیر تک گفتگو ہوئی، مگر وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ ہم سب لوگ خدائی اوتار ہیں۔ آپ بھی ایک اوتار ہیں اور میں بھی ایک اوتار ہوں۔ ان کی یہ بات اور بھی زیادہ ناقابل فہم تھی۔ اس لیے میں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔
۲۳ جولائی کے اجلاس میں میری تقرری تھی۔ میری تقریر کا موضوع اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ مجھے آدھ گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ میں نے انگریزی میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا، اور قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کی۔ میری کرسی اور سائی بابا کی کرسی قریب قریب تھی۔ سائی بابا میری تقریر کو بہت دھیان سے سنتے رہے۔ جب تقریر ختم کرکے میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو سائی بابا نے اپنی مخصوص کرسی میری کرسی کے قریب کرتے ہوئے کہا:
We have complete faith in the Qur'an.
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues