We have complete faith in the Qur'an.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
جلسے کی کارروائی کے بعد سائی بابا نے مجھ سے دوبارہ ملاقات کی۔ یہاں اُن کا ایک خاص کمرہ ہے۔ اس کمرے میں وہ کبھی کبھی کسی خاص آدمی سے ملتے ہیں۔ مجھے اس کمرے میں لے جایا گیا۔ جہاں صرف دو کرسیاں تھیں ۔ ایک سائی بابا کی مخصوص وہیلی چیرا اور دوسری، میرے لیے ایک کرسی۔ اس ملاقات میں سائی بابا نے وہی بات کہی جو وہ اپنی تقریر میں کہہ چکے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی اور مزید بات انھوں نے نہیں کہی۔ میرے ساتھی نے ان کو میری کچھ انگریزی کتابیں پیش کیں جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ یہ کتابیں ہماری لائبریری میں رہیں گی۔ سائی بابا نے اسی کے ساتھ اپنی مخصوص انگوٹھی مجھے دی ۔ اس انگوٹھی کو ڈائمنڈ رُنگ کہا جاتا ہے۔ اس انگوٹھی کا یہ نام غالباً اس کی مفروضہ برکت کی وجہ سے ہوگا۔ کیوں کہ بظاہر یہ انگوٹھی عام قسم کی انگوٹھی تھی، وہ کوئی ڈائمنڈ رُنگ نہ تھی۔ مشہور ہے کہ یہ ڈائمنڈ رُنگ کسی کارخانے کی بنی ہوئی نہیں ہوتی، بلکہ وہ سائی بابا کی کرامت سے ان کے ہاتھ میں بن جاتی ہے۔ مگر مجھ کو وہاں ایسی کوئی کرامت دکھائی نہیں دی۔ مجھ کو تو یہی محسوس ہوا کہ یہ انگوٹھی ایک عام انگوٹھی ہے، وہ کوئی پُر اسرار انگوٹھی نہیں۔ جلسے سے واپس ہو کر اپنے کمرے میں آیا تو یہاں دو صاحبان ملاقات کے لیے موجود تھے۔ یہ دونوں میڈیا کے آدمی تھے۔ انھوں نے مجھ سے مختلف قسم کے سوالات کیے۔ مثلاً ایک سوال یہ تھا کہ آپ یہاں کیسے آئے ۔ کیا آپ سائی بابا کو اپنا گرو مانتے ہیں۔ کیا آپ سائی بابا کی باتوں سے متفق ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اس میں اختلاف یا اتفاق کی کوئی بات نہیں۔ یہاں ایک انٹر فیتھ کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں ہر مذہب کے لوگ بلائے گئے ہیں۔ مجھے بھی اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے یہاں بُلایا گیا تھا۔ مجھ کو یہاں بولنے کے لیے جو موضوع دیا گیا وہ ’’اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ میں نے اس موضوع پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں تقریر کی۔ جس طرح دوسرے لوگوں نے اپنے اپنے مذہب پر تقریر کی۔ ہر مقرر کو اپنی بات کہنے کے لیے تیس منٹ دیے گیے تھے۔
تقریر کے بعد کانفرنس کے کئی لوگ مجھ سے ملے۔ ہر ایک نے کہا کہ یہاں پانچ مذہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب پر تقریریں کیں۔ مگر آپ کی تقریر سب سے زیادہ کلیئر تھی، وہ پوری
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues