Al-Risala · March 2006 · page 15

We have complete faith in the Qur'an.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵

طرح ہماری سمجھ میں آئی۔ دوسرے لوگوں کی تقریریں زیادہ واضح نہیں تھیں۔

پٹاپر تھی میں کچھ مسلم لوگ بھی آباد ہیں۔ یہاں ان کی ایک چھوٹی مسجد بھی ہے۔ یہ مسجد سائی بابا نے خود اپنی طرف سے بنوا کر مسلمانوں کو دی ہے۔ یہاں کی مسجد کے بارے میں مجھے آخروقت میں معلوم ہوا۔ اس لیے میں خود اس مسجد کو دیکھنے کے لیے نہ جا سکا۔ یہاں رہنے والے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ بظاہر بہت خوش معلوم ہوتے تھے۔

جب سائی بابا سے ملاقات کا وقت طے ہوا تو یہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ سائی بابا ساری باتوں کو جانتے ہیں یہاں تک کہ ان کو آپ کے دل کا حال بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ آپ کو اُن سے خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے آپ، آپ کو ساری بات بتا دیں گے۔ مگر مجھے وہاں اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔ میں سائی بابا کے مخصوص کمرے میں دیر تک اُن کے پاس اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔ مگر انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، جس کا تعلق میری ذات سے ہو۔ انھوں نے صرف یہ کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں۔ مسلم جگت میں آپ کی جو مانیا ہے اس کا ہم کو پتہ ہے۔ انھوں نے کچھ اور باتیں کہیں لیکن ان کی زبان پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئی۔

پٹاپر تھی کے زمانہ قیام میں میں یہ سوچتا رہا کہ ایک شخص کو اتنی زیادہ مقبولیت کیسے حاصل ہوئی۔ کل ہی یورپ سے آنے والے ایک ہندو نے سائی بابا کو تین سو کروڑ روپے کا چیک دیا۔ اس طرح مسلسل انھیں لوگوں کا تعاون حاصل ہوتا رہتا ہے۔ اس سرمایے سے سائی بابا بہت بڑے بڑے کام کر رہے ہیں، مثلاً اسکول، کالج اور اسپتال کا قیام وغیرہ۔ یہاں انتہائی جدید طرز کا ایک اسپتال ہے جہاں غریبوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہارٹ سرجری بھی مفت ہوتی ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے اندر خدا کا شعور لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی ایک سپریم گاڈ پر یقین رکھتا ہے۔ سائی بابا یا اس طرح کے دوسرے لوگوں کو جو غیر معمولی ریسپانس ملتا ہے وہ دراصل غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔ لوگ اپنے خدائی جذبات کو اس طرح کے کسی انسان سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی فطرت میں جس برتر طاقت کا شعور چھپا ہوا ہے، یہ انسان اسی کا ظہور ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page