Al-Risala · January 2006 · page 11

سیاسی اصطلاحیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱

شرعی عدالتیں ۔ ہندوستانی عدلیہ کے متوازی نظام نہیں ہر قانونی نظام میں قانون کے دو حصے مانے گیے ہیں ۔ ایک، احوال اجتماعی ۔ دوسرا، احوال شخصی۔ احوال اجتماعی سے مراد وہ احوال ہیں جو دو یا زیادہ شخصوں کے درمیان پیدا شدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ احوال شخصی سے مراد وہ معاملات ہیں جو کسی فرد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر قانونی نظام میں ایسا ہوتا ہے کہ احوال اجتماعی کا تعلق ریاست یا عدالت سے ہوتا ہے۔ مگر جہاں تک احوال شخصی کا تعلق ہے، اس معاملے میں لوگوں کو یہ رخصت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی دائرے والے معاملات کو بطور خود ثالث یا کسی اور طریقے سے طے کریں۔ اگر یہ فیصلہ سماج کے دوسرے لوگوں کے حقوق پر اثر انداز نہ ہوتا ہو تو اس کو ایک جائز فیصلہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ برصغیر ہند میں یہ نظام ماضی قدیم سے چلا آ رہا تھا۔ مسلم عہد حکومت سے پہلے ہندوستان میں راجاؤں کی حکومت تھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندوستان میں آئے، اور مختلف راجاؤں کے حدود سلطنت میں آباد ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان ہندو راجاؤں نے اپنی مسلم رعایا کی مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مخصوص قانونی عہدہ قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اس مسلم عہدے دار کا نام ’’ہُنر من‘‘ ہوتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے شخصی معاملات میں انھیں شریعت کے مطابق فیصلہ دے۔

ہندوستان میں جب مسلم عہد سلطنت شروع ہوا تو اس روایت کو باقی رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے ذمے دار افراد مقرر کیے گیے ۔ ان کو قاضی کہا جاتا تھا۔ یہ گویا آزاد قانونی ادارہ تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلم افراد کے شخصی یا خاندانی معاملات میں شریعت کی رہنمائی میں فیصلے دے۔ یہ قاضی احوال اجتماعی میں دخل نہیں دیتے تھے۔ وہ محدود طور پر صرف شخصی احوال میں مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔

انیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان میں برٹش راج قائم ہوا تو برٹش حکمرانوں نے قاضی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page