We have complete faith in the Qur'an.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
یہی غلط انتساب ہے جو موجودہ ساری دھوم کا اصل سبب ہے۔
ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانے کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانے کا فتنہ مادّیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لکلّ امّة فتنة و فتنة امتی المال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ مال یا مادّیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے۔ پٹا پر تھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعداد میں ان کے آشروموں میں آتے ہیں تا کہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرّک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادّی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوں گے جب کہ انھیں اسلام میں مادّی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گر و لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت دراصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصور جنت کو اُن کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادّی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ جس جنت کو آپ قبل از موت مرحلہ حیات میں تلاش کر رہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلہ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ مادّی تعبیر ہمیشہ مادّی دنیا کے حوالے سے کی جاتے ہیں۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری بعض کتابیں پڑھی تھیں ۔ ان کے سامنے میں نے اسلام کی مزید وضاحت کی۔ بظاہر وہ اسلام سے متاثر نظر آئے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues