Fallow one and respect all.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷
انھوں نے کہا: کیا کوئی آدمی بیک وقت دو مذہب کو مان سکتا ہے۔ اس جملے سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ ہندو دھرم کو چھوڑے بغیر کیا میں اسلام کو اختیار کر سکتا ہوں۔
میں نے کہا کہ مذہب محض رسم یا کلچر کا نام نہیں، مذہب دراصل سچائی کا نام ہے۔ سچائی لازمی طور پر یقین (conviction) چاہتی ہے اور یقین کے لیے وحدت ضروری ہے۔ آپ یقین کے ساتھ صرف ایک عورت کو اپنی ماں بنا سکتے ہیں۔ کئی عورتوں کے ساتھ ماں والا تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا ہے۔ کسی ایک ہی مذہب کے بارے میں یقین کی نفسیات آپ کے اندر جاگ سکتی ہے۔ کئی مذہب کو یکساں ماننے کی صورت میں آپ کا یقین بکھر جائے گا اور آپ حقیقی یقین کی نعمت سے محروم ہو جائیں گے۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ ۔ یقین ایک مذہب پر، احترام ہر مذہب کا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اس فارمولے پر عمل کریں کہ: ایک مذہب پر چلو، اور سارے مذہبوں کا احترام کرو:
Fallow one and respect all.
میں نے کہا کہ اکثر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی لانے کی بات کی جاتی ہے۔ اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی لائی جائے۔ جہاں تک مذاہب کا تعلق ہے، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان عقیدہ یا تھیالوجی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب کا آدمی اپنے مذہب کی کتاب کو مقدس سمجھتا ہے۔ ٹکراؤ مختلف کتابوں کے درمیان نہیں، بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہے۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ مذاہب کو اپنی حالت پر رکھتے ہوئے ان کا احترام کیا جائے اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام کا مزاج پیدا کیا جائے۔
یہ کانفرنس بہت بڑی کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کرنے والے پنانوے فیصد ہندو لوگ تھے۔ صرف کچھ افراد مسلم یا سکھ یا عیسائی فرقوں سے تعلق رکھنے والے ملے۔ اس معاملے میں ایک صاحب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues