Al-Risala · March 2006 · page 18

Fallow one and respect all.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸

سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا، یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان انٹریکشن کلچر (culture of interaction) کو رواج دیا جائے۔ ملنے جلنے کے ہر موقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کے درمیان جائیں اور ان کو جاننے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔

میں نے کہا کہ بر وقت یہ صورت حال ہے کہ ہر مذہب کے لوگ شعوری یا غیر شعور طور پر اپنے مذہب کو جامد سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مذہب کچھ لگے بندھے رسوم کا مجموعہ (set of rituals) ہے۔ وہ نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے۔ خود مسلمانوں میں آج بھی یہی عقیدہ بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ: الإيمان لا يزيد ولا ينقص (ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے)

یہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی بات ہے۔ یہ غیر فطری نظریہ مذہب کو جامد رسوم یا آداب (etiquette) سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں (اور خود مسلمانوں کے یہاں) ایسا ہوا ہے کہ جسمانی افعال کو شرعی افعال سمجھ لیا گیا۔ مثلاً نماز کو بدنی عبادت کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ درست نہیں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی عبادت ہے۔ بدنی افعال صرف اس کا ظاہری حصہ ہیں۔ یہی معاملہ ہر مذہب میں ہوا ہے۔ ہر مذہب میں کچھ ظاہری افعال اور رسوم کو مذہب سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان افعال اور رسوم کو ظاہری طور پر ادا کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں اور ان کو ادا نہ کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ حالاں کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے داخلی اصلاح کا نام ہے نہ کہ کچھ ظاہری حرکات کا نام۔ اس غلط تصور کا ایک بہت بڑا نقصان ہوا۔ وہ یہ کہ ہر مذہبی گروہ میں بظاہر کچھ مخصوص افعال اور رسوم کی دھوم تو خوب جاری ہے مگر داخلی حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک کے یہاں مکمل خلا پایا جاتا ہے۔

مذہب کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کو سچائی سے متعارف کرتا ہے۔ اس تعارف یا دریافت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک ہلچل پیدا ہو جاتی ہے، اس کی سوچ میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا ایک عمل جاری ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page