Al-Risala · March 2006 · page 19

Fallow one and respect all.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

وہ ہر دن سچائی کی دریافت کے نئے مراحل طے کرنے لگتا ہے۔ اُس پر ہر روز حقیقت کے نئے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

مثلاً مسلمانوں میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس ذبح کو اگر آپ محض ایک رسم سمجھیں تو جانور کے ذبح کرتے ہی آپ کا مذہبی عمل پورا ختم ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں ذبح کا عمل ایک جامد عمل ہوگا۔ اس میں آپ کو نہ کوئی چیز گھٹنے والی دکھائی دے گی اور نہ بڑھنے والی۔ ذبح کے بعد آپ مطمئن ہو جائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ ذبح کے معاملے میں میری جو شرعی ذمے داری تھی وہ میں نے ادا کر دی۔

لیکن اگر ذبح آپ کے نزدیک ایک شعوری معاملہ ہو تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ جانور ذبح کرنے پر معاملہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ وہ تو صرف ایک آغاز تھا۔ آپ کا احساس یہ ہوگا کہ ذبح حیوان کے بعد اب ذبح خویش کی باری ہے۔ اب آپ کو مزید شدت کے ساتھ خدا پرستانہ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ خواہ قربانی کی سطح پر جا کر اس کو کرنا پڑے۔

اپنے ذاتی تجربے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ اختلاط (interaction) بہت ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے محدود حلقے، یا اپنے رشتے داروں یا دوستوں میں رہتے ہیں ان کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا، وہ بہت سی باتوں سے بالکل بے خبر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر لوگوں سے ملتے ہیں، اور ڈسکشن کرتے ہیں اُن کا ذہنی ارتقاء دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس معاملے کا ایک تجربہ مجھے خود موجودہ سفر میں بھی ہوا۔

پٹنہ پر تھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اس سفر کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا کہ سائیں بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت در یافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائیں بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page