Fallow one and respect all.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمع کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میں صاف طور پر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (God's worshiper) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہر ایک نے اس پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ خود سائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن پڑھاتے ہیں اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً سیکولر ازم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولر ازم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سُن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالاں کہ یہ صرف سمجھنے کا فرق ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولر ازم کو سادہ طور پر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولر ازم کا ترجمہ ’’لادینیت‘‘ کر کے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حالاں کہ سیکولر ازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام۔
یہی معاملہ غالباً خدا کے لفظ کا ہے۔ سائی بابا جیسے لوگوں کے حلقے میں خدا کا لفظ غالباً صرف ایک علامتی لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ عملاً وہ گرو یا مرشد کے ہم معنی ہے۔ مگر مسلمان جب اس کو سنتا ہے تو وہ اپنے تصور کے مطابق، خدا کو اللہ کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اور اس طرح وہ ایسے لوگوں کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رد عمل واقعے کے خلاف ہے اور لوگوں کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا کرنے والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues