Al-Risala · March 2006 · page 21

Fallow one and respect all.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

۲۳ جولائی ۲۰۰۵ء کو میں پٹاپرتھی سے بنگور گیا۔ ۲۳ جولائی کی ملاقات میں سائی بابا نے پوچھا تھا کہ آپ کب جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں یہاں سے بنگور جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہماری گاڑی آپ کو لے جائے گی۔ میں نے اس کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ مگر میں نے دیکھا کہ سائی بابا کے آدمی بار بار میرے پاس آنے لگے اور سفر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ سنٹر کی خاص گاڑی ٹھیک وقت پر گیسٹ ہاؤس پہنچ گئی۔ اس سے روانہ ہو کر میں مغرب کے وقت بنگور پہنچا۔ بنگور میں مسٹر اعجاز احمد کے مکان پر تین دن قیام رہا۔

پٹاپرتھی اور بنگور کے درمیان کار کا سفر حسب معمول تھا، سڑک عام طور پر اچھی تھی اور موسم بھی خوشگوار تھا۔ سائی سنٹر کی طرف سے راستے میں کھانے پینے کے لیے بہت سی چیزیں دے دی گئی تھیں مگر سفر میں کھانے پینے کا مجھے زیادہ ذوق نہیں۔ سفر کے دوران جو تجربے ہوتے ہیں وہ ایک صاحب معرفت آدمی کے لیے روحانی غذا بن جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مادی غذا اس کے لیے ایک ثانوی چیز کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔

بنگور ۱۸۳۰ء سے کرناٹک کی راجدھانی ہے۔ پہلے اس پورے علاقے کو میسور اسٹیٹ کہا جاتا تھا۔ بنگور انڈیا کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے قریب دو ندیاں بہتی ہیں_ آرکا وتی اور گنوا۔ یہ دونوں ندیاں کاویری سے ملی ہوئی ہیں۔

برٹش دور سے پہلے بنگور سلطان ٹیپو کی ریاست کا ایک حصہ تھا۔ سلطان ٹیپو کا مقبرہ سرنگا پٹم، یہاں سے قریب واقع ہے۔ بنگور میں ہمارے ایک ساتھی ڈاکٹر احمد سلطان تھے_ وہ سلطان ٹیپو کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ عجیب وغریب خصوصیات کے حامل تھے۔ پہلے وہ نوابی مزاج کے آدمی تھے مگر ماہنامہ الرسالہ پڑھ کر وہ بالکل بدل گئے۔ بنگور میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پھیلانے میں ان کا کافی حصہ تھا۔ وہ سگریٹ بہت زیادہ پینے کے عادی تھے۔ حتی کہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ کھانا کم کھاتے تھے اور سگریٹ زیادہ پیتے تھے۔ تمباکو نوشی کی اس کثرت سے ان کی صحت خراب ہوگئی تھی_ چنانچہ کم عمری میں ہارٹ اٹیک سے اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page