Al-Risala · March 2006 · page 22

Bangalore: Scenes from an Indian city.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

بنگلور میں عرصے سے عبداللہ برمی صاحب الرسالہ مشن کے تحت دعوتی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔ لیکن بنگلور کے اس سفر میں ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ بعد کو ان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ عبداللہ برمی صاحب نہایت مخلص آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے اندر دعوتِ الی اللہ کا جذبہ بھر پور طور پر پایا جاتا ہے۔

بنگلور کی تاریخ سے ایک اہم واقعہ وابستہ ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پچھلے زمانے میں ہندو مسلم تعلقات کتنے زیادہ خوش گوار تھے۔ بنگلور کے قیام میں مجھے ۱۵۶ صفحے کی ایک با تصویر انگریزی کتاب ملی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:

Bangalore: Scenes from an Indian city.

اس کتاب میں بنگلور کی تاریخ کے بارے میں جو باتیں درج تھیں اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ قدیم زمانے میں مسلم نواب نے بنگلور کا علاقہ شیواجی کی فیملی کو بطور جاگیر دیا تھا: Around 1637 Bangalore was conquired by the Bijapur Muslim sultans and Shahaji Bhonsle, father of Shivaji, was given Bangalore, along with a few other towns in Karnataka, as jagir. (p. 13)

بنگلور میں ایک بڑا ادارہ ہے جو ’’الامین‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس ادارے کے تحت بہت سے اسکول اور کئی کالج چل رہے ہیں۔ اس ادارے نے تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

الامین کے ایک ذمے دار پروفیسر عطا ءاللہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الامین کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں، پھر انھوں نے الامین کالج میں آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کو وہاں گیا۔ وہاں طلبا اور اساتذہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ، وہاں دو خطابات ہوئے۔ ایک، ادارے کے مسلم اساتذہ کے درمیان، اور دوسرا، ادارے کے غیر مسلم اساتذہ کے درمیان۔ دونوں خطاب کے بعد سوالات کیے گیے، جن کا میں نے جواب دیا۔ دونوں خطابوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے اسلام کے بارے میں غلط

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page