Al-Risala · March 2006 · page 23

Bangalore: Scenes from an Indian city.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دینا چاہیے۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے میں علم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قدیم روایتی دور میں علم کا دائرہ بہت محدود تھا، مگر آج ہر چیز کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔ آج کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں جس کا تعلق علم سے جڑا ہوا نہ ہو۔ میرا احساس یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے علم کی اس جدید اہمیت کو نہیں سمجھا۔ حتی کہ میرے نزدیک، سرسید احمد خاں بھی علم کی اس جدید اہمیت سے صرف جزئی طور پر باخبر تھے۔ مغل دور میں ہندوستان میں فارسی زبان سرکاری زبان تھی۔ فارسی زبان جاننے والوں کو سرکای ملازمتیں ملتی تھیں۔ برطانوی دور میں جب انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا گیا تو مسلمان اچانک سرکاری ملازمتوں سے محروم ہو گئے۔ یہی سرسید کا اصل کنسَرن تھا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان انگریزی زبان پڑھیں تا کہ ان کو سرکاری ملازمتیں ملیں۔ چنانچہ انھوں نے اسی مقصد کے لیے انگریزی تعلیم کے ادارے قائم کیے، مگر یہ جدید تعلیم کا بہت محدود تصور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ماڈرن ایجوکیشن کا تعلق پوری زندگی سے ہو چکا تھا، نہ کہ محدود طور پر صرف سرکاری ملازمت سے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور مسلمانوں کو کھچڑے پن کی صورت میں اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔

الامین کالج میں ایک خاتون مسز نگار نے سوال کیا کہ نو جوانوں کو مذہب کی طرف کس طرح لایا جائے ۔ میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ جانیے کہ آج کل کے نو جوان مذہب سے کیوں دور ہو رہے ہیں۔ میرے نزدیک اس کے اصل ذمے دار مذہب کے نمائندے ہیں۔ ان لوگوں نے نئی نسل کے سامنے مذہب کو وقت کے اسلوب میں پیش نہیں کیا۔ نئی نسل، کالج اور یونیورسٹی میں سیکولر علوم کو جس اسلوب میں پڑھتی ہے، اُس اسلوب میں اس کو مذہب کی تعلیم نہیں ملتی۔ یہی فرق نئی نسل کی مذہب سے دوری کا اصل سبب ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ اس فرق کو ختم کیا جائے ۔ مذہب کو بھی اُسی عقلی اسلوب میں پیش کیا جائے جس عقلی اسلوب میں یہ لوگ سیکولر علوم کو

‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues

Printed page