Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
پڑھتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور تدبیر نئی نسل کو مذہب کے قریب لانے والی نہیں۔ بنگلور کے زمانہ قیام میں میرا ایک پروگرام یہاں کے الامین کالج میں تھا۔ اس پروگرام کی تفصیلی رپورٹ بنگلور کے اردو روزنامہ سالار (۳۰ جولائی ۲۰۰۵) میں شائع ہوئی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ: ’’اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بار بار اقلیت میں رکھ کر بھی اکثریت پر حکومت کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ لہٰذا ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے کو غیر محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے اور چیلنجوں کے ساتھ جو مواقع ملتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ‘‘ اس رپورٹ میں اخبار کے رپورٹر نے نادانستہ طور پر ایک ایسی بات میری طرف منسوب کردی جو میں نے نہیں کہی تھی ۔ میں نے اپنی تقریر میں قرآن کی آیت (البقرہ ۲۲۹) کا حوالہ دیتے ہوئے آرنلڈ ٹائن بی کا فلسفہ تاریخ بیان کیا تھا۔ اس کے مطابق، خود فطری عمل کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ کسی سماج میں جو گروہ اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو وہ ہمیشہ اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج سے دوچار رہتا ہے۔ چیلنج اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ بنا دیتا ہے۔ اس فطری عمل کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے تئیس سالہ دور نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے— مکی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ وہ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظم ہو کر جنگی اقدام شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تقسیم سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور اور مدنی دور
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues