Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔ اسلامی تحریک اصلاً دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پر امن طور پر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے اور اپنے اختتام میں بھی دعوت۔ دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ سالوں کے بعد مر جاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجاۓ۔ دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں بلکہ ان کا تعلق مدعو سے ہے۔ دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم کے واقعات کو ظہور میں لانے کا اصل سبب ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت کے بعد کبھی طوفان نوح جیسا واقعہ پیش آیا، کبھی مدعو کی طرف سے وہ صورت پیش آئی جس کا ایک نمونہ حضرت یونس کی زندگی میں ملتا ہے۔ کبھی وہ واقعہ پیش آیا جس کی ایک مثال حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف نمونے نظر آتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک نمونہ وہ ہے جس کی مثال پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکی دور اور مدنی دَور کی صورت میں پیش آئی۔
اب عالمی افکار کے انقلاب کے بعد دنیا میں بالکل نئی صورتِ حال سامنے آئی ہے۔ اب دعوت کا طریقہ اور مدعو کا ردِ عمل دونوں بدل چکے ہیں۔ کچھ لوگ دورِ قدیم کے تجربات کو لے کر یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم کو اسی طریقے کو دہرانا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قدیم زمانے کے داعی آگ میں ڈالے گیے اور اُن سے جنگ کی گئی اور ان کو ملک بدر کیا گیا، یہ سب واقعات موجودہ زمانے کے داعیوں کے ساتھ بھی پیش آنے چاہئیں، ورنہ ان کی دعوت پیغمبرانہ دعوت نہیں قرار پائے گی۔ اس قسم کا نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ مدعو کے ردِ عمل سے ہے۔ قرآن میں اہل ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ: ربّنا ولا تحمّل علينا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues