Al-Risala · January 2006 · page 12

سیاسی اصطلاحیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

کے عہدے کو باقی رکھا۔ یہ قاضی ہندوستان کے اکثر شہروں میں موجود ہوتے تھے اور وہ مسلمانوں کے شخصی احوال میں ان کی شرعی رہنمائی کرتے تھے۔

۱۹۴۷ میں ہندوستان آزاد ہوا تو اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد حکومت ہند میں وزیر تعلیم کے عہدے پر تھے۔ مولانا آزاد کے مشورے سے حکومت نے اس مقصد کے لیے دہلی میں ایک مسلم جج مقرر کیا۔ ان کا نام محمد شفیع تھا۔ جب تک وہ زندہ رہے یہ نظام چلتا رہا۔ وہ خاص طور پر نکاح و طلاق کے معاملات میں اپنا فیصلہ دیتے تھے۔ مگر محمد شفیع صاحب کے انتقال کے بعد یہ نظام عملاً ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد مختلف مدارس اور مسلم اداروں میں قائم شدہ دار الافتاء اور دار القضاء مسلمانوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ دار الافتاء اور دار القضاء کا یہ نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور اب بھی چل رہا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں ان اداروں نے بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کی ہے۔ ہندوستان کی ریاست یا یہاں کے سیاسی نظام نے اس کو تسلیم کیا۔ کیوں کہ وہ دستور ہند میں دی ہوئی مذہبی آزادی کے مطابق تھا۔

۴ جون ۲۰۰۵ کو مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ایک واقعہ ہوا۔ جس نے غالباً پہلی بار نئی صورت حال پیدا کر دی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (عمرانہ) کے ساتھ خود اس کے خاندان کے ایک ممبر نے زنا بالجبر کا فعل کیا۔ اس پس منظر میں کچھ لوگوں نے ملوث افراد کا نام لیے بغیر بالواسطہ انداز میں ایک استفتاء مرتب کیا، اور اس کو دیوبند کے دار الافتاء میں بھیج دیا۔ دار الافتاء والوں نے اس معاملے میں اپنے فقہی اصول کے مطابق، ایک فتویٰ جاری کر دیا۔ اس فتوے سے اصل مجرم کو تو کوئی سزا نہیں ملی، البتہ اس نے عمرانہ اور اس کے پورے خاندان کے لیے ناقابل بیان مسائل پیدا کر دیے۔ ایسے مسائل جن کا کوئی حل مفتی صاحبان کے پاس نہ تھا۔ کیوں کہ مفتی صاحبان کے پاس فتویٰ تحریر کرنے کا اختیار ضرور موجود تھا مگر اس فتوے کو نافذ کرنے کا کوئی اختیار انھیں حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ دیوبند کے اس فتوے نے ایک سنگین نوعیت کا قانونی بحران پیدا کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس کی سماعت کر کے مختلف ریاستوں کے نام یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page