Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶
اصرا كما حملته على الذين من قبلنا (البقرہ: ٢٨٦) یعنی ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میں تدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں آخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اورداعیوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل جاری کرسکیں۔ مگر بدقسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہوسکے۔ اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا خودساختہ انقلابی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان و سلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ وجدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہوا۔ چنانچہ انھوں نے خودساختہ طور پر مُند بھیڑ اور مسلح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کیں اور اس کے بعد پر فخر طور پر کہا کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔
انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابی ٔرسول عبداللہ بن عمرؓ کے الفاظ صادق آتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اْس وقت حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہرگز جہاد نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑ کر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کر رہے ہو۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ۳۲/۸) ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فیاضی کا مزاج بہت اچھا ہے مگر مطلق فیاضی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ لوگوں کو صحیح ترجیح کا علم ہو۔ یعنی کسی وقت یا مقام پر فیاضی کا تقاضا کیا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے فیاضی کے جذبے کو ترجیحی طور پر استعمال کرے ۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اصحابِ مال نہایت فیاضی کے ساتھ سوشل سروس اور کمیونٹی ورک پر اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، مگر یہی اصحاب مال عام انسانوں میں دعوت ورک کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues