Bangalore: Scenes from an Indian city.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷
اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔ میرے نزدیک یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔
۲۴ جولائی کی صبح کو مسٹر اعجاز احمد کے ساتھ لال باغ گیا۔ یہاں ہم لوگ دیر تک ٹہلتے رہے۔ یہ بہت بڑا پارک ہے جو تقریباً ۳۰ ایکڑ کے رقبے میں قائم ہے۔ بنگلور میں مارننگ واک کے لیے لال باغ پارک بہت اچھی جگہ ہے۔ یہ سر سبز درختوں کے درمیان ایک پُرسکون جگہ ہے۔ یہاں کچھ اور لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً مسٹر ضیاء (ٹی پلانٹر) درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ان لوگوں سے دیر تک دینی موضوعات پر بات ہوتی رہی۔
ضیاء صاحب کا ایک سوال یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں آزاد ہے یا مجبور۔ میں نے کہا کہ حقیقت دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی پچاس فیصد آزاد اور پچاس فیصد مجبور۔ مثلاً ہم لوگ اس وقت بات کر رہے ہیں، ہم پوری طرح آزاد ہیں کہ چاہیں تو بات کریں اور چاہیں تو نہ بات کریں۔ مگر یہ بات چیت اُس وقت ممکن ہوتی ہے، جب کہ میرے اور آپ کے بیچ میں، ہوا کا واسطہ موجود ہو۔ یہ ہوا خدا کی دی ہوئی ہے۔ اگر ہوا نہ ہو تو ہم اور آپ بات نہیں کر سکتے۔ بات چیت کرنا ہماری آزادی ہے اور یہاں ہوا کا ہونا ہماری مجبوری۔ خدا کے یہاں ہماری جو پوچھ ہوگی وہ ہوا کے بارے میں نہیں ہوگی بلکہ اپنی آزادیٔ گفتار کے استعمال کے بارے میں ہوگی۔
لال باغ کو حیدر علی نے بنایا تھا۔ حیدر علی ۱۷۲۲ء میں پیدا ہوا، اور ۱۷۸۲ء میں اس کی وفات ہوئی۔ حیدر علی، میسور اسٹیٹ کا حکمران تھا۔ اس اسٹیٹ میں دوسرے علاقوں کے ساتھ بنگلور شامل تھا۔ حیدر علی فوجی معاملات کا زبردست ماہر تھا۔ اس نے اپنی خصوصی لیاقت کے ذریعے ۱۷۶۱ء میں میسور اسٹیٹ قائم کیا۔
حیدر علی کے زمانے میں انڈیا میں برٹش رول ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ مختلف طاقتیں اپنی سیاسی قسمت کے لیے زور آزمائی کر رہی تھیں۔ چناں چہ حیدر علی کو اپنے دورِ حکومت میں مختلف طاقتوں سے جنگ کرنی پڑی۔ نظام حیدر آباد، مراٹھا، فرانسیسی، انگریز وغیرہ۔ ان جنگوں میں تقریباً پچاس ہزار آدمی مارے گئے۔ آخر میں حیدر علی نے محسوس کیا کہ اس کو جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2006 All issues